بتلا رہی ہے کہ امت نہیں بگڑے گی جب تک وہ فوت نہ ہو جائیں۔ اور فوت کا لفظ یا یوں کہو کہ مرنے کی حقیقت کھلی کھلی ہے جس کو سارا جہان جانتا ہے۔ اور وہ یہ کہ جب ایک انسان کو فوت شدہ کہیں گے تو اس سے یہی مراد ہو گی کہ ملک الموت نے اس کی روح کو قبض کرکے بدن سے علیحدؔ ہ کر دیا ہے۔ اب منصفین انصافاًبتلاویں کہ حضرت عیسیٰ کی وفات پر اس سے زیادہ تر کیا ثبوت ہوگا اور کیا دنیا میں اس سے زیادہ تر منطقی فیصلہ ممکن ہے جو اس آیت نے کر دیا۔ پھر اس کے مقابل پر یہودیوں کی طرح خدا تعالیٰ کی پاک کلام کو تحریف کرکے اور گندے دل کے ساتھ اپنی طرف سے اس کے معنے گھڑنا اگر فسق اور الحاد کا طریق نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ انصاف یہ تھا کہ اگر اس قطعی اور یقینی ثبوت کو ماننا نہیں تھا تو اس کو توڑ کر دکھلاتے۔ مگر ہمارے مخالفوں نے ایسا نہیں کیا اور تاویلات رکیکہ کر کے اور سچائی کے راہوں کو بکلی چھوڑ کر ہم پر ثابت کر دیا کہ ان کو سچائی کی کچھ بھی پروا نہیں ہے۔ انہوں نے انکار حیات عیسیٰ کو کلمۂ کفر تو ٹھہرایا مگر آنکھ کھول کر نہ دیکھا کہ قرآن اور نبی آخر الزمان دونوں متفق اللفظ واللسان حضرت عیسیٰ کی وفات کے قائل ہیں۔ امام مالک و اما عدۃ امیال الفصل بینہا وبین طرابلس فلا اعلمہا تحقیقا نعم یعلم تقریبا نظرا علی الطرق والمنازل۔ وتختلف الطرق۔ الطریق الاول من طرابلس الی بیروت فمن طرابلس الی بیروت منزلین متوسطین (وقدر المنزل عندنا من الصباح الی قریب العصر) ومن بیروت الی صیدا منزل واحد ومن صیدا الی حیفا منزل واحد ومن حیفا الی عکامنزل واحد ومن عکا الی سور منزل واحد و یقال لبلاد الشام سوریہ نسبۃً الی تلکؔ البلدۃ فی القدیم۔ ثم من سور الی یافامنزل کبیر وھی علی ساحل البحر ومنہا الی القدس منزل صغیر والان صنع الریل منہا الی القدس ویصل القاصد من یا فا الی القدس فی اقل من ساعۃ فعدۃ المسافۃ من طرابلس الی القدس تسعۃ ایام مع الراحۃ والیہا طرق من طرابلس واقربھا طریق البحر بحیث لورکب الانسان من طرابلس بالمرکب الناری