إثم، فاتقوا الظنون الفاسدۃ التی تتزعّجُ منہا أرضُ إیمان الظانین وتنزعجُ النیّۃ الصالحۃ، وتکثُر وساوس الشیاطین۔ وقوموا متوکّلا علی
اللّٰہ وقَدِّموا من خیر ما استطعتم، وأَعِدُّوا لأخیکم مِن زادٍ یکفیہ لسفرہ البحری والبری، وکان اللّہ ؔ معکم ووفّقکم وہو خیر الموفِّقین۔
فنرجو مِن إخلاص أہل الثروۃ والمقدرۃ أن یتوجہوا إلی اہتمام ہذا الأمر
بکل القلب وکل الہمّۃ، ولا حاجۃ إلی أن نُکثِر القول ونبالغ فی الکلام ونستنہض ہمم الأحبّاء والمخلصین ببیانات مملوّ ۃ من التکلفات، فإنّا نعلم أن الإشارۃ کافیۃ لأحبّائنا المتصدّقین۔ فلیُعط کل أحد منہم بقدر قدرتہ
التی أعطاہ اللّٰہ ولا یستحی ولا یحتشم من أن ینفح بالقلیل، ولیعلم أن الغرض أن یُعطی ولو کانت فلسۃ أو ربعہ أو أقلّ من الفتیل۔ ومن کان ذا عیشۃٍ خضراء فلیعط
سو تم ایسے ظن مت کرو جن سے بدگمان
انسان کی ایمانی زمین ہل جاتی ہے اور نیت
صالحہ میں جنبش آتی ہے اور شیطانی وساوس بڑھتے ہیں۔ اور خدا کے توکل پر کھڑے ہو جاؤ اور
کوئی نیکی کر لو جو کر سکتے ہو اور اپنے بھائی
کے لئے کچھ زاد سفر بہم پہنچاؤ جو اس کے سفر بحری
اور بری کے لئے کافی ہو خدا تمہارے ساتھ ہو اور تمہیں توفیق دے اوروہ بہتر توفیق دہندہ ہے۔
پس ہم اہل مقدور دوستوں کے اخلاص
سے امید رکھتے ہیں کہ اس کام کے اہتمام کی طرف
سارے دل اور ساری ہمت سے مصروف ہوں اور ہمیں کچھ حاجت نہیں کہ ہم زیادہ کہیں اور کلام میں مبالغہ کریں
اور پُرتکلف بیانوں سے اپنے
دوستوں اور مخلصوں کو تحریک دیں کیونکہ ہم
جانتے ہیں کہ ان کے لئے اشارت کافی ہوگیِ للہ کام کرنا ان کی عادت ہے۔
پس چاہیئے کہ ہر ایک ان میں سے بقدر خدا داد استطاعت دیوے اور اس
بات سے شرم نہ کرے
کہ وہ کچھ تھوڑا دیتا ہے اور اس بات کو معلوم کرے کہ غرض اصلی یہ ہے کہ دیوے اگرچہ ایک پیسہ یا اس کا چوتھا
حصہ یا کھجور کے اندر کے چھلکے سے بھی
تھوڑا ہو اور جو شخص خوش اوقات کھاتا پیتا ہو سو اگر چاہے تو