مِن فضل قاضی الحاجات، وہو خیرٌ قلبًا ونِعْمَ الرجل، مع أن الضرورۃ قد اشتدت، فلعل اللّٰہ یصلح أمرنا علی یدیہ، وہو بہذا التقریب یصل وطنہ وینجو من تکالیف السفر العنیف، ویتخلّص من مُفارقۃ المألف والألیف، وتُؤجَرون علیہ من اللّٰہ الرحیم اللطیف۔ وما قلتُ إلَّا لِلّٰہ وما أنا إلا ناصح أمین۔ والذین یظنون أن أہل العرب لا یقبلون ولا یسمعون، فلیس عندنا جوابُ ہذا الحمق مِن غیر أن نحولق علی قولہم ونسترجع علی فہمہم۔ ألا یعلمون أن العربیِّین سابقون فی قبول الحق من الزمان القدیم؟ بل ہم کالأصل فی ذلک وغیرہم أغصانہم۔ ثم نقول إن ہذا فعلُ اللّٰہ رحمۃً منہ، والعرب أحق وأولی وأقرب برحمتہ، وإنی أجد ریح فضل اللّٰہ، فلا تتکلّموا بکلمات الیأس ولا تکونوا من القانطین۔ ولا تظنوا ظن السوء ، وإن بعض الظن خدا تعالیٰ کے فضل میں سے ہے اور وہ نیک دل اور بہت اچھا آدمی ہے اور اس طرف ضرورت بھی سخت ہے پس شائد خدا اس کے ہاتھ پر ہمارے کام کی اصلاح کرے اور وہ اس تقریب سے اپنے وطن میں پہنچ جاوے اور سفر کی سخت مشقتوں سے نجات پاوے اور وطن اور دوستوں کی جدائی سے بھی رہائی ہو اور تم کو خدا تعالی سے اجر ملے اور میں نے صرف اللہ کے لئے یہ باتیں کی ہیں اور میں امانت سے نصیحت کرنے والا ہوں۔ اور وہ لوگ جن کا یہ گمان ہے کہ عرب کے لوگ قبول نہیں کریں گے اور نہ سنیں گے پس ہمارے پاس اس نادانی کا بجز اس کے اور کوئی جواب نہیں کہ ہم ان کے اس خیال پر لا حول پڑھیں اور ان کی سمجھ پر انّا للّٰہ کہیں کیا نہیں جانتے کہ عرب کے لوگ حق کے قبول کرنے میں ہمیشہ اور قدیم زمانہ سے پیش دست رہے ہیں بلکہ وہ اس بات میں جڑ کی طرح ہیں اور دوسرے ان کی شاخیں ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ یہ ہمارا کاروبار خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک رحمت ہے اور عرب کے لوگ الٰہی رحمت کے قبول کرنے کے لئے سب سے زیادہ حقدار اور قریب اور نزدیک ہیں اور مجھے خدا تعالیٰ کے فضل کی خوشبو آرہی ہے سو تم نو امیدی کی باتیں مت کرو اور ناامیدوں میں سے مت ہو جاؤ اور بدگمانیوں میں مت پڑو اور بعض ظن گناہ ہیں