واعلموا أیہا الإخوان أن أمر إشاعۃ الکتب فی دیار العرب وتبلیغ معارف کتبنا إلیہم لیس بشیء ہیّن، بل أمر ذو بال لا یُتمّہ إلا من ہو
أہلہ، فإن ہذہ المسائل الغامضۃ التی کُفِّرْنا وکُذِّبْنا لہا لا شک أنہا تصعُب علی علماء العرب کما صعبتْ علی علماء ہذہ الدیار، لا سیما علی أہل البوادی الذین لا یعلمون دقائق الحقیقۃ، ولا یتدبّرون حق التدبّر،
أنظارہم سطحیۃ وقلوبہم مستعجلۃ، إلا قلیل منہم الذین أنار اللّٰہ فطرتہم وہم من النادرین۔
فلأجل تلک المشکلا ت التی سمعتم۔ اقتضت المصلحۃ الدینیۃ أن نتخیّر لہذا الأمر عالِمًا مذکورا الذی اسمہ محمد
سعیدی النشار الحمیدی الشامی*۔ ولا شک أن وجودہ لہذاؔ المہمّ من المغتنمات، ومجیۂ عندنا
اور بھائیو یہ بھی تمہیں معلوم رہے کہ دیار عرب میں کتابوں کے شائع کرنے کا معاملہ اور ہماری
کتابوں کے عمدہ مطالب عرب کے لوگوں تک پہنچانا کچھ تھوڑی سی بات نہیں بلکہ ایک عظیم الشان امر ہے اور
اس کو وہی پورا کرسکتا ہے جو اس کا اہل ہو۔ کیونکہ یہ باریک مسائل جن کے لئے ہم
کافر ٹھہرائے گئے اور جھٹلائے گئے
کچھ شک نہیں کہ وہ عرب کے علماء پر بھی ایسے سخت گذریں گے جیسا کہ اس ملک کے مولویوں پر سخت گذر رہے
ہیں بالخصوص عرب کے اہل بادیہ
کو تو بہت ہی ناگوار ہوں گے کیونکہ وہ باریک مسائل سے بے خبر ہیں اور وہ
جیسا کہ حق سوچنے کا ہے سوچتے نہیں اور ان کی نظریں سطحی اور دل جلد باز ہیں مگر ان میں
قلیل المقدار ایسے
بھی ہیں جن کی فطرتیں روشن ہیں اور ایسے لوگ کم پائے جاتے ہیں۔
سو ان مشکلات کی وجہ سے جو تم سن چکے مصلحت دینی نے تقاضا کیا جو اس کام
کے لئے ہم اس عالم مذکور کو منتخب
کریں جس کا نام محمدؐ سعیدی النشار الحمیدی
الشامی ہے اور کچھ شک نہیں کہ اس کا وجود اس مہم کے لئے از بس غنیمت ہے اور اس کا اس جگہ آنا
* الحاشیۃ: مسکنہ طرابلس شام ملک
سیریا ویُقال لھا باللغۃ الانکلیزیۃ تربولی وھی مدینۃ عظیمۃ علی ساحل بحر الروم بینھا وبین بیروت ثلٰثون اکواسًا۔ منہ