إذا ما عَیَّ قومی مِنْ جوابٍ
فمالوا نحو ہَذْیٍ کالجَہامِ
جس وقت میری قوم جواب دینے سے عاجز آ گئی
سو بکواس کی
طرف مائل ہو گئی جیسے و ہ بادل جس میں پانی نہ ہو
وقالوا آیۃٌ لبنی حُسینٍ
ومنہم نرقُبَنْ بَعْث الإمامِ
اور بولے کہ یہ ایک نشان بنی حسین کے لئے ہے
اور انہیں میں سے امام کے پیدا ہونے
کی امید کی جاتی ہے
فقلتُ اخْشَوا إِلٰہًا ذا جلالٍ
وفِرّوا نحو عَینِیْ بالأُوامِ
پس میں نے کہا کہ خدائے بزرگ سے ڈرو
اور میرے چشمہ کی طرف پیاس کے ساتھ دوڑو
ولا یدری الخفایا غیر
رَبِّی
وما الأقوام إلا کالأسامی
اور پوشیدہ باتوں کو میرے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا
اور قومیں صرف نام ہیں
وأی ثبوتِ نسبٍ عند قومٍ
سوی الدعوی کأوہام المنامِ
اور کس قوم کے پاس
اپنی نسب کا ثبوت ہے
بجز دعویٰ کے جو خواب کے وہموں کی طرح ہے
ونحن الوارثون کمثلِ وُلْدٍ
ورِثْنا کلَّ أموال الکرامِ
اور ہم بیٹوں کی طرح وارث ہیں
اور بزرگوں کے تمام مال کے ہم
وارث ہو گئے
فتوبوا واتّقوا ربًّا قدیرًا
ملیکَ الخَلق والرسلِ العظامِ
پس توبہ کرو اور اس رب قادر سے ڈرو
جو خلقت اور رسولوں کا بادشاہ ہے
ومَن راما فأین یفرّ منّا
وإنا النازلون بأرضِ
رامی
اور جو شخص ہم سے تیر اندازی کرے ہم سے کہاں بھاگے گا
کیونکہ ہم تیر چلانے والوں کی زمین پر اتریں گے
وردنا الماءَ صفوًا غیرَ کدرٍ
ویشرَب غیرُنا وَشْلَ الإجامِ
ہم پانی میں
وارد ہو گئے جو مصفا اور غیر مکدّر ہے
اور ہمارے مخالف تھوڑا سا جنگلوں کا پانی پی رہے ہیں
أتانی الصالحون فبایَعونی
وخافوا ربّہم یومَ القیامِ
نیک لوگ میرے پاس آئے اور انہوں نے بیعت
کی
اور خداتعالیٰ سے جزا سزا کے دن سے ڈرے
وأمّا الطالحون فأکفَرونی
ولعنونی وما فہِموا کلامی
جو تباہ کار تھے سو انہوں نے مجھے کافر ٹھہرایا
اور میرے پر لعنتیں کیں اور
میرے کلام کو نہ سمجھا
وأفتَوا بالہویٰ من غیرِ علمٍ
وقالوا کافرٌ للکُفْر کامی
اور بغیر بصیرت علم کے اور ہوا و ہوس کے فتویٰ لکھا
اور کہا کہ کافر ہے اور کفرکے لئے گواہی کو چھپانے
والا