الأوقات، فقد تبع المفتریاتِ، وآثر علٰی قول رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أراجیفَ الکاذبین۔ وہا أنا أقول علی رؤوس الأشہاد
لجمیع أہل البلاد، أنہ من أنکر ہذہ الآیۃ من ذوی شَنَآنٍ، فلیس عندہ من برہان، ولا یتکلم إلّا مِن ظلم وعدوان، فإن عندنا شہادۃَ کلِّ زمانٍ۔ الکتب موجودۃ، والمعاذیر مردودۃ، وقد کتبنا ہذا لإیقاظ النائمین۔
أیہا
الناس اقبلوا أو لا تقبلوا، إن الآیۃ قد ظہرت، والحجۃ قد تمّتْ، ولن تستطیعوا أن تُخرِجوا لنا نظیرًا آخر لہذا الخسوف والکسوف، فلاؔ تُعرِضوا عن آیۃ اللّٰہ الرحیم الرؤوف۔ وہذا آخر کلامنا فی ہذا الباب،
ونشکر اللّٰہ علی تألیف ہذا الکتاب، ونصلی علی رسولہ خاتم النبیین۔
وآخر دعوانا أن الحمد للّٰہ ربّ العالمین
پہلے بھی واقع ہو گیا ہے اس نے مفتریات کی پیروی کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی بات پر
جھوٹوں کی بات کو ترجیح دی ہے اور خبردار ہو مَیں گواہوں کے روبرو کہتا ہوں کہ جو شخص اس
نشان کا انکار کرے تو اس کے پاس کوئی دلیل نہیں اور محض ظلم سے بات
کرتا ہے اور ہمارے پاس ہر زمانہ کی گواہی ہے کتابیں موجود ہیں اور جو عذر کئے گئے ہیں وہ مردود ہیں اور یہ رسالہ ہم نے سوئے ہوئے کو جگانے کے لئے لکھا ہے۔
اے لوگو تم قبول کرو یا نہ
کرو بے شک نشان ظاہر ہو گیا اور حجت پوری ہو گئی
اور تمہیں طاقت نہیں کہ اس کسوف خسوف کی کوئی اور نظیر پیش کر سکو پس
خداتعالیٰ کے نشانوں سے روگردانی مت کرو اور یہ ہماری
اس باب میں آخری کلام ہے
اور ہم اس کتاب کی تالیف پر خداتعالیٰ کا شکر کرتے ہیں اور ہم خداتعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں
اور آخری دعا یہ ہے کہ الحمد للہ ربّ
العالمین۔