کانوا منتظرین لہٰذہ الآیۃ وراقِبی ہٰذہ الحجّۃِ قرنًا بعد قرنٍ وجِبلّۃً بعد جبلّۃ؟ فلو وجدوہا فی قرن لکانوا أوَّلَ الذّاکرین فیکتبہم وما کانوا
متناسین۔ فإنہم کانوا یعظّمون ہذا الخبر المأثور، ویُحصُون فی رِقْبتِہ الأیامَ والشہور، وینتظرونہ کالمغرمین، وکانوا یُحنّون إلٰی رؤیۃ ہذہ الآیۃ، ویحسبون رؤیتہا من أعظم السعادۃ۔ فما رأوہا مع مساعی کثیرۃ
وأنظار متتابعۃ أثیرۃ، ولو رأوہا لذکروہا عند ذکر ہذہ الأخبار وتدوین ہذؔ ہ الآثار۔ وأنت تعلم أن تألیفاتہم سلسلۃ متتابعۃ لا یغادر قرنا من القرون إلٰی زماننا الموجود المقرون، ومع ذلک لا تجد فیہا أثرًا من ذکر
وقوع ہذہ الآیۃ۔ أفأنت تظن أنہم ما ذکروہا مِن حُجب الغفلۃ؟ وإن کنت تزعم کذلک فہذا بہتان مبین۔ وکیف تظن ہذا وأنت تعلم أنہم کانوا حریصین علٰی جمع حوادث الزمان، ومجہشین بتدوین ما لحِقہا النیِّرانِ،
فمَن زعم أنہ وقع فی وقتٍ من
اس نشان کے منتظر تھے اور اس حجت کی انتظار کر رہے تھے اور صدی بعد صدی اور پشت بعد
پشت انتظار کر رہے تھے پس اگر اس کو کسی قرن میں پاتے تو
ضرور اس کا ذکر کرتے اور فراموش نہ کرتے۔
کیونکہ وہ اس خبر ماثور کی تعظیم کرتے تھے اور ا سکے انتظار میں دن اور مہینے گنتے تھے اور عشاق کی طرح اس کی
انتظار کرتے تھے اور
اس نشان کے دیکھنے کی آرزو رکھتے تھے پس انہوں نے اپنے زمانوں میں
اس نشان کو نہ دیکھا اور اگر دیکھتے
تو ضرور اس کا ذکر کرتے اور تمہیں معلوم ہے کہ ان کی کتابیں
مسلسل طور
پر تالیف ہوتی چلی آئی ہیں
مگر ان میں اس نشان کا کچھ ذکر نہیں کیا گیا۔ تیرا یہ ظن ہے کہ انہوں نے
غفلت کی وجہ سے یہ ذکر چھوڑ دیا اگر تو ایسا ظن کرتا ہے تو تُو نے بہتان باندھا اور کس
طرح تُو ظن کرتا ہے اور تُو جانتا ہے کہ وہ لوگ حوادث زمانہ کے جمع کرنے پر بہت حریص تھے اور جو کچھ چاند اور سورج پر امورعارض ہوتے ان کے لکھنے کے لئے آمادہ رہتے تھے۔ پس جس
شخص نے یہ زعم کیا ہے کہ یہ خسوف کسوف