ویتوجہ إلیکم لہبُہ۔ فاتقوا مقت اللّٰہ ولا تتکلموا مجترئین۔ وإنی سمعت أنّ بعض الجہلاء وطائفۃ من السفہاء یقولون إنّ الخسوف والکسوف فی رمضان، وإنْ کنا نجد مُؤیِّدَہ الفرقانَ، ومع ذلک یوجد فی الأخبار ویُتلٰی فی الآثار، ولکنا لسنا بمطمئنین وعالمین بأنہ ما وقع فی أول الزمان، وماؔ ثبت غرابتہ عند أہل الأدیان، فکیف نکون مستیقنین؟ أما الجواب فاعلموا أیّہا الجہلاء والسفہاء أن ہٰذا حدیث من خاتم النبیّین وخیر المرسلین، وقد کُتب فی الدارقطنی الذی مرّ علی تألیفہ أزید من ألف سنۃ فاسألوا المنکرین۔ فإن کنتم من المرتابین فأَخْرِجوا لنا کتابًا أو جریدۃ یوجد فیہ دعواکم ببرہان مبین۔ وأْتوا بقائل یقول إنی رأیت کمثل ہذا الخسوف والکسوف قبل ہذا إن کنتم صادقین۔ ولن تستطیعوا ولن تقدروا علی ذٰلک، فلا تتبعوا الکاذبین۔ ألم تعلموا أن علماء السلف نازل ہو گا سو خداتعالیٰ کے غضب سے ڈرو اور دلیری سے مت بولو۔ اور مَیں نے سنا ہے کہ بعض جاہل نادان یہ بات کہتے ہیں کہ اگرچہ چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان میں ہو گیا اور ہم قرآن کو اس پیشگوئی کا مؤید بھی پاتے ہیں اور اخبار اور آثار میں بھی یہ پیشگوئی موجود ہے مگر ہم کو یہ تسلی نہیں کہ کبھی پہلے زمانہ میں یہ واقع نہیں ہوا اور اس کی غرابت اہل ادیان کے نزدیک ثابت نہیں پس ہم کیونکر یقین کریں۔ مگر جواب یہ ہے کہ اے نادانو اور سفیہو یہ حدیث خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے جو خیر المرسلین ہے اور یہ حدیث دارقطنی میں لکھی ہے جس کی تالیف پر ہزار برس سے زیادہ گذرا پس پوچھ لو ان سے اگر تمہیں شک ہے تو ہمارے لئے کوئی ایسی کتاب یا اخبار نکالو جس میں تمہارا دعویٰ صاف دلیل کے ساتھ پایا جاوے او کوئی ایسا قائل پیش کرو کہ اس قسم کا خسوف اور کسوف اس نے دیکھا ہو اگر تم سچے ہو۔ اور تمہیں ہرگز قدرت نہیں ہو گی کہ اس کی نظیر پیش کر سکو پس تم جھوٹوں کی پیروی مت کرو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ علماء سلف