واللحوق بالأولیاء ۔ لیس من البرّ أن یکفِّر بعضکم بعضا، ویعتدی کذوی العدوان، ویترک أعداء خیر الإنس والجانّ، ولکن البرّ مَن جاہد فی سبیل اللّٰہ بجہاد یناسب طورَ الزمان، فاطلبوا عملًا مبرورًا عند اللّٰہ إن کنتم تطلبون مرضاۃ الرحمٰن، وخُذوا سِیر الصالحین۔ یا معشر الإخوان قد ضعف دیننا الذی ما یسبقہ النیِّرانِ، وکثرت المفاسد فی الزمان، وہذا أمر لا یختلف بہ اثنان، ولا تنطق بما یخالفہ شفتانِ، وترون أنّ القوم قد وقعوا فی أنیابِ غُول الضلال وبدَت الوجوہ علی أقبح المآل، وقد ضعفنا فی کُلّیّاتنا وجُزئیّاتنا، فالعیاذ باللّٰہ من شر المآل۔ ولیس لنا وسیلۃ لرفع ہذہ الغوائل والوبال، من غیر رفعِ کَفِّ الابتہال، فقد جاء وقت بذل الہمّۃ وصرف الحمیّۃ والغیرۃ کالرجال، وإن لم تسمعوا فعلیکم ذنب الغافلین لوگوں کی تعریف اوراولیاء میں داخل ہو جانا اس کے علاوہ ہے یہ تو نیکی کی بات نہیں کہ بعض تم میں سے بعض کو کافر ٹھہرا ویں اور ظالموں کی طرح زیادتی کریں اور رسول اللہ صلعم کے دشمنوں کو چھوڑ دیں مگر نیکی کی بات یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی راہ میں ایسی کوشش کریں جو مناسب زمانہ ہے سو تم عمل مبرور کے طالب بن جاؤ اگر تم خدائے تعالیٰ کی رضامندی کے طالب ہو اور نیکوں کی سیرتیں اختیار کرو۔ بھائیو ہمارا وہ دین جو آفتاب اور ماہتاب سے بڑھ کر تھا ضعیف ہو گیا اور مفاسد زمانہ میں بہت پھیل گئے اور یہ وہ بات ہے جس میں دو آدمی بھی اختلاف نہیں کرتے اور اس کے مخالف دو لبیں نہیں بولتیں اور تم دیکھتے ہو کہ ہماری قوم گمراہی کے شیطان کے دانتوں کے نیچے ہے اور بری شکلیں ظاہر ہو گئی ہیں اور ہم اپنے کلیات جزئیات میں کمزور ہو گئے پس بدانجام سے خدا کی پناہ مانگو اور ان بلاؤں سے نجات پانے کے لئے بجز دعا کے اور کوئی وسیلہ نہیں سو وہ وقت آ گیا جو ہمت اور غیرت اور حمیت کو مردوں کی طرح کام میں لاویں اور اگر تم اب بھی نہ سنو تو غافلوں کا گناہ تمہاری گردن پر۔