مِن سواہ۔ وأَرسِلوا فی تلک الدیار وبلادِ أہل الإنکار رجُلَین عارِفَین، وإن کنتم تشاوروننی وتسألوننی فقد قلتُ وبیّنت لکم اسم رجل رأیتُ فضلہ وعلمہ ومتانتہ وحلمہ برأی العین۔ نعم إنّہ یحتاج إلی رفیق آخر أو رفیقَین من الذین کانوا فی لسان العرب ماہرین، وفی علم القرآن متبحرین، فأعینوہ فی ہذا یا معشر المسلمین۔ فإن فعَلْتم وکما قلتُ عمِلْتم، فتبقی لکم مآثرُ الخیر إلٰی آخر الزمان، وتُبعَثون مع أحبّاء الرحمٰن، وتُحشَرون فی عباد اللّٰہ المجاہدین، فاسْمِحوا رحمکم اللّٰہ، وقوموا لِلّٰہِ قانتین۔ أقول لکم مثلًا فاستمِعوا لہ کالمنصِفین۔ کلُّ رجل یرضی أن یبذل کلَّ ما یملکہ لینجو مثلًا من مرض احتباس الضّراط، فما لہ لا یرضٰی لإعانۃ الدّین والصراط؟ ألیس عندہ قدرُ الصراط کقدر الضراط؟ فتَفکَّروا کالمستحیین۔ ثم إعانۃ الدین من أعظم وسائل الفلاح وذرائع الصلاح، مع جمیل الذکر وطیبؔ الثناء بدلہ کی امید مت رکھو اور ان ولایتوں میں دو باخبرآدمی بھیجو اور اگر مجھ سے مشورہ طلب کروسو مَیں ایسے آدمی کا نام بیان کر چکا ہوں جس کا مَیں نے فضل اور علم اور متانت اور حلم دیکھا ہے ہاں وہ ایک یا دو ایسے رفیقوں کا محتاج ہے جو لسان عرب میں ماہر اور علم قرآن میں بہت وافر حصہ رکھتے ہوں سو اے مسلمانو اس کو اس بارہ میں مدد دو پس اگر تم نے ایسا کیا اور میرے کہنے پر عمل کیا تو اخیر زمانہ تک نیک یادگار تمہاری باقی رہے گی اورتم مقبولوں کے ساتھ اٹھائے جاؤ گے سو جوانمردی دکھلاؤ خداتعالیٰ تم پر رحم کرے اور فرمانبردار بن کر اٹھ کھڑے ہو مَیں ایک مثال کہتا ہوں منصفوں کی (طرح) اس کو سنو۔ ہر یک انسان اس بات پر راضی ہو جاتا ہے کہ تمام مال خرچ کر کے مثلاً حبس ریح کی مرض سے خلاصی پاوے اور چاہتا ہے کہ کسی طرح ہوا خارج ہو جاوے پھر ا س پر کیا پردہ پڑا ہے کہ دین کی اعانت کے لئے مال خرچ کرنے پر راضی نہیں ہوتا کیا دین اس کے نزدیک اس بدبودار ہوا کے بھی برابر نہیں جو اندر سے نکلتی ہے سو تم اہل حیا کی طرح سوچو پھر دین کی مدد کرنا ایک بڑا بھاری ذریعہ صلاح وفلاح ہے