یکفی، ورفیقٍ یعلَم العربیۃ ویدری، فعاوِنوا بأموالکم وأنفسکم إن کنتم تحبّون اللّٰہ ورسولہ، ولا تقعدوا مع القاعدین۔ واعلموا أن الإسلام مرکزٌ وعمود للعالم الإنسانی، لأن المُلک الجسمانی ظِلٌّ للمُلک الروحانی، وجعَل اللّٰہ سلامتہ فی سلامتہ وکرامتہ فی کرامتہ، وکذلک جرت سنۃ ربّ العالمین۔ وإن اللّٰہ إذا أراد أن یُعلِی قوما فیجعل لہم ہِممًا فی الدّین، وغیرۃً للصّراط المتین، فقُوموا للأعداء ، ولکن لا کالسّفہاء ، بل کالعقلاء والحکماء ۔ ولا تتخیروا ظُلمًا ولا یخطُرْ فی بالکم ہواہ، بل أطیعوا اللّٰہ وأشیعوا ہداہ، واللّٰہ یحبّ الطاہرین۔ فالرجاء مِن حمیّتکم الإسلامیۃ وغیرتکم الدینیۃ أنؔ أَعِدّوا الأسباب کالعاقلین لا کالجاہلین والمجانین۔ ولا شک أن تفہیم الضالین الغافلین واجب علی العلماء العارفین، فقوموا للّٰہ وأشیعوا ہُداہ، ولا تؤمِّلوا علیہا جزاءً کافی ہو اور کوئی ایسا رفیق بھی ساتھ ہو جو عربی دان ہو سو تم اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ مدد کرو اور اگر تم اللہ اور رسول کے محب ہو اور نکمے ہوکر مت بیٹھو۔ اور یقیناً سمجھو کہ دین اسلام عالم روحانی کے لئے مرکز ہے کیونکہ جسمانی ملک روحانی ملک کے لئے تابع ہے اور خدا تعالیٰ نے جسمانی ملک کی سلامتی اور بزرگی روحانی ملک میں رکھی ہے اور اسی طرح سنت اللہ واقع ہوئی ہے۔ اور خدا تعالیٰ جس وقت ارادہ فرماتا ہے کہ کسی قوم کو بلندی بخشے تو ان کو دین میں عالی ہمت اور صاحب غیرت کر دیتا ہے پس دشمن کے لئے کھڑے ہو جاؤ لیکن نہ بے وقوفوں کی طرح بلکہ عقلمندوں اور حکیموں کی طرح اور ظلم کا طریق مت اختیار کرو اور چاہیئے کہ تمہارے دل میں اس کا خیال ہی نہ آوے بلکہ خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرو اور اس کی ہدایت کو پھیلاؤ اور خدا تعالیٰ پاکوں کو دوست رکھتا ہے۔ پس تمہاری حمیت اسلامی اور غیرت دینی سے امید ہے کہ عقلمندوں کی طرح اسباب تیار کرو نہ جاہلوں اور مجنونوں کی طرح اور کچھ شک نہیں کہ گمراہوں کا سمجھانا عالموں پر فرض ہے پس خداتعالیٰ کے لئے کھڑے ہو جاؤ اور اس کی ہدایت کو پھیلاؤ اور اس پر کسی اور کے