للأعداء ما ترون نافعًا عند العقلاء ۔ ولن یمکن أن یکون لکم الفتح إلا بإقامۃ الحجّۃ وإزالۃ الشبہۃ، وقد تحر!کت الأرواح لطلب
صداقۃ الإسلام، فادخُلوا الأمرَ من أبوابہ ولا تتیہوا کالمستہام۔ فإن کنتم صادقین وفی الصالحات راغبین، فابعثوا رجالًا من زمرۃ العلماء لیسیروا إلی البلاد الإنکلیزیۃ کالوعظاء ، لیُتمّوا علی الکَفَرۃ حُجَجَ
الشریعۃ الغرّاء ، ویؤیّدوا زُمَرَ الأصدقاء ، ویقوموا لہمؔ معاونین۔ والأمر الذی أراہ خیرًا وأنسب وأصلح وأصوب، فہو أن یُنتخب لہذا المہم رجل شریف عارف لسان الإنکلیزیۃ کحِبِّی فی اللّٰہ المولوی حسن
علی، فإنہ من ذوی الہمۃ وإنہ صالح لہذا الخطۃ، ومع ذلک تقیّ زکیّ وجریٌّ لإشاعۃ الملّۃ۔ ولکن ہذہ المُنْیۃ لا تتمّ إلا بہممِ رجال ذوی مال، الذین یبذلون جہدہم لخدمۃ القوم ولا ینظرون إلی اللا ئم واللؤم۔
وتعلمون أن ہذا السفر یحتاج إلی زاد
دشمنوں کے لئے وہ ہتھیار طیار کر و جو عند العقلاء نافع ہیں اور ہرگز ممکن نہیں جو بغیر حجت قائم کرنے
اور شبہات دور کرنے کے تمہیں فتح ہو۔ اور
بلاشبہ روحیں اسلامی صداقت طلب کرنے کے لئے حرکت
میں آ گئی ہیں پس تحصیل مقصد کے لئے دروازہ میں سے داخل ہو پس اگر تم سچے ہو اور
صلاحیت کی طرف راغب ہو تو تم علماء میں
سے بعض آدمی مقرر کرو تاکہ واعظ بن کر انگریزی
ملکوں کی طرف جائیں اور تا کافروں پر شریعت کی حجت پوری کریں اور دوستوں کی مدد کریں
اور ان کی مدد کے لئے کھڑے ہو جائیں اور
جس طریق کو میں بہتر اور مناسب تر دیکھتا ہوں وہ
یہ ہے کہ اس مہم کے لئے کوئی آدمی ماہر زبان منتخب کیا جائے جیسا کہ
حبی فی اللہ مولوی حسن علی کہ وہ اہل ہمت میں سے ہے اور وہ
اس امر کے لائق ہے
اور باوجود اس کے نیک بخت اور اشاعت اسلام کے لئے دلیر ہے لیکن یہ مراد بجز متمول لوگوں کی
ہمت کے پوری نہیں ہوسکتی یعنی ایسے لوگ جو خدمت قوم کے لئے
پوری کوشش کریں
اور کسی کی ملامت کی پروا نہ کریں اور تم جانتے ہو کہ یہ سفر اس بات کا محتاج ہے کہ زاد