من فضلہ ویعطیکم من مننہ، فتوبوا إلیہ وأصلِحوا فإنہ یتولّی الصالحین۔ قُوموا لإشاعۃ القرآن وسِیروا فی البُلدان، ولا تَصبُوا إلی الأوطان، وفی البلاد الإنکلیزیۃ قلوب ینتظرون إعاناتِکم، وجعل اللّٰہ راحتہم فی معاناتکم، فلاؔ تصمتوا صموتَ مَن رأی وتَعامی، ودُعی وتحامی۔ ألا ترون بکاء الإخوان فی تلک البلدان وأصوات الخلان فی تلک العمران؟ أصرتم کالعلیل وصار کسلُکم کالداء الدخیل، ونسیتم أخلاق الإسلام ورِفق خیرالأنام، وصارت عادتکم سُہُومۃ المُحَیّا، وسُہُوکۃ الرَّیّا، ویُبرّحکم السیرُ المطوِّح من البنات والبنین۔ قُوموا لتخلیص العانین وہدایۃ الضالین، ولا تکبّوا علی سیفکم وسنانکم، واعرِفوا أسلحۃَ زمانکم، فإن لکل زمان سلاح آخر وحرب آخر، فلا تجادلوا فیما ہو أجلی وأظہر۔ ولا شک أن زماننا ہذا یحتاج إلی أسلحۃ الدلیل والحجۃ والبرہان، لا إلی القوس والسّہم والسّنان، فأعِدُّوا تم کو غنی کر دے۔ اس کی طرف جھکو اور اصلاح کرو کیونکہ وہ صالحوں کو دوست رکھتا ہے۔ قرآن کے شائع کرنے کے لئے کھڑے ہو جاؤ اور شہروں میں پھرو اور اپنے ملکوں کی طرف میل مت کرو اور انگریزی ولایتوں میں ایسے دل ہیں جو تمہاری مددوں کا انتظار کر رہے ہیں اور خدا نے تمہارے رنج ان کے رنج میں راحت لکھی ہے* پستم اس شخص کی طرح چپ مت ہو جو دیکھ کر آنکھیں بند کر لے اور بلایا جاوے اور پھر کنارہ کرے کیا تم ان ملکوں میں ان بھائیوں کا رونا نہیں سنتے اور ان دوستوں کی آوازیں تمہیں نہیں پہنچتیں۔ کیا تم بیمار کی طرح ہو گئے اور تمہاری سستی اندرونی بیماری کی طرح ہو گئی اور اسلام کے اخلاق تم نے بھلا دیئے اور تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی کو بھلا دیا اور تمہاری عادت تغیر صورت اور تغیر خوشبو ہو گئی اور تم نے مومنوں کا خلق بھلا دیا۔ اے لوگو قیدیوں کے چھڑانے کے لئے اور گمراہوں کی ہدایت کے لئے کھڑے ہو جاؤ اور تلوار اور نیزوں پر افروختہ ہوکر مت گرو اور اپنے زمانہ کے ہتھیاروں اور اپنے وقت کی لڑائیوں کو پہچانو کیونکہ ہر ایک زمانہ کے لئے ایک الگ ہتھیار اور الگ لڑائی ہے پس اس امر میں مت جھگڑو جو ظاہر ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ ہمارا زمانہ دلیل اور برہان کے ہتھیاروں کا محتاج ہے تیر اور کمان اور نیزہ کا محتاج نہیں۔ پس تم