ولا تخالفوا بین رجلَیکم، فإن اللّٰہ قد أخزاکم وأراکم جزاء اشتطاطکم، وعاداکم فلا تحاربوا اللّٰہ إن کنتم متّقین۔ وإن کنتم تظنون أن
المہدی والمسیح یخرجان بالسیف والسنان ویصبّغون الأرض بالسفک والإثخان، فما نشأ ہٰذا الوہم إلّا من سوء جہلا تکم وزیغ خیالاتکم، وما کان اللّٰہ مُہلِکَ أہل الأرض قبل إتمام الحجّۃ وتکمیل الموعظۃ۔ أیُہلِکُ
عبادہ وہم کانوا غافلین غیر مطّلعین؟ ألا ترون المَغْربیّین من الأقوام الإنکلیزیۃ والملل النّصرانیۃ۔ ما بلَغہم شیء من معارف القرآن ودقائق الفرقان، وتاللّٰہِ إنّہم کالصّبیان غافلون من أسرار دین الرحمٰن۔ أیجوز
قتل الصبیان عندکم؟ بیِّنوا إن کنتم تعلمون قوانین الدین المتین۔ ستقولون ہذا دجّال یخالف عقائدنا القدیمۃ ویبدّل الأصول العظیمۃ، فاعلموا أن اللّٰہ لا یُنزِل آیاتِہ لتائید الدجّال، ولا یؤیّد من کان أہل الضلال۔ فاعلموا
أنی لست بکذّاب ولا أ تبع طرق
کیونکہ خدا تعالیٰ نے تمہیں رسوا کیا اور تمہارے تجاوز کا بدلہ تمہیں دیا اور
تمہیں دشمن پکڑا پس خدا تعالیٰ سے لڑائی مت کرو اگر تم پرہیز گار ہو۔ اور اگر تم
خیال کرتے ہو کہ مہدی اور
مسیح تلوار اور نیزہ کے ساتھ نکلیں گے اور زمین کو خون ریزیوں سے پُر کر دیں گے
سو یہ وہم صرف تمہاری کم عقلی سے پیدا ہوا ہے اور تمہارے کچے خیال اس
کا موجب ہیں اور خدا تعالیٰ ایسا
نہیں ہے جو دنیا کو اتمام حجت سے پہلے ہلاک کر دے۔ کیا وہ بے خبر بندوں کو ہلاک کرے گا۔
کیا تم انگریزوں کی قوم کو نہیں دیکھتے
کہ قرآن اب تک ان تک
نہیں پہنچا اور دقائق فرقان سے بے خبر ہیں اور بخدا وہ بچوں کی
طرح ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بھیدوں سے غافل ہیں کیا تمہارے نزدیک بچوں کا قتل کرنا جائز ہے اس کا
جواب دو اگر تم شریعت
کے قانونوں سے واقف ہو۔ عنقریب کہو گے کہ یہ دجال ہے کہ ہمارے عقائد قدیمہ کی
مخالفت کرتا ہے اور بڑے بڑے اصولوں کو بدلاتا ہے۔ سو تم جان لو کہ خدا تعالیٰ دجال کی تائید میں نشان
ظاہر
نہیں کرتا اور گمراہوں کی مدد نہیں کرتا سو میں کذاب نہیں ہوں اور نہ ہلاکت کے طریقے کی