جلال اللّٰہ لا قولَ الشیخ والحَدَثِ۔ وأیّہا الشیخ ضعیف النظر، تُبْ فإنک عن الحق تمیل، وتعالَ أُعالِجْ عینک وعندی الکُحْلُ والمِیل، ویزیل اللّٰہ بَلْبالَک، ویصلح ما عَرَی بالَک، إن کنت من الطالبین۔ ولا تقُلْ إنّی أعلم علومًا کذا وکذا، فإنّا نعرفک ونعلم من أنت ولا تخفی، وعہدی بک سفیہًا، فمتی صرت فقیہًا؟ ألا تترک فضولک ولا تغادر غُولک؟ ألستَ من المستحیین؟ وقد طویتُ ذکر أخبار المہدی فی ہذا الکتاب، فإنی فصّلتُہ فی کتب أخری للأحباب، إلا أننی ذکرتُ فی ہذا آیۃً عظیمۃ ہی أوّلُ علامۃٍ لظہورہ وأوّلُ سہمٍ من اللّٰہ لتائید مأمورہ، فإن النیِّرَین قد خسفا، ورآہما کل ذی عینَین، فنابا منابَ عَدْلَین، فتوبوا واذکروا قولَ سیّد الثَّقَلَین، وقد حصحص الصدق فلا ینکرہ إلا متّبع المَین۔ فلا تفرحوا بما لدیکم، ولا تصفّقوا بیدیکم، ولا تمشوا مزہوّین مرِحین متغاؔ مزین بعینَیکم، ولا تغرّدوا بِمَلا شَدْقَیکم، ولا ترقصوا جلال سے ڈرو نہ کسی بوڑھے اور جوان کی بات سے اور اے شیخ کم نظر توبہ کر کیونکہ تو حق سے میل کرتا ہے اور میرے پاس آ کہ میں تیری آنکھوں کا علاج کروں اور میرے پاس سرمہ اور سلائی بھی ہے اور خدا تعالیٰ تیری بے قراری کو دور کر دے گا اور تیرے دل کو درست کر دے گا اور بشرطیکہ تو طالب حق بنے گا۔ اور یہ بات مت کہہ کہ میں فلاں فلاں علم جانتا ہوں کیونکہ ہم تجھے جانتے ہیں کہ تو کون ہے اور تو پوشیدہ نہیں اور میں تجھے تیری نادانی کے وقت سے شناخت کرتا ہوں پس تو کب سے عالم فاضل ہو گیا کیا تو اپنی فضولیوں کو نہیں چھوڑے گا اور اپنے شیطان سے علیحدہ نہیں ہوگا کیا تو حیا کرنے والوں میں سے نہیں ہے۔ اور میں نے مہدی کا ذکر اس کتاب میں لکھنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ میں نے اس کو دوسری کتابوں میں مفصل طور پر لکھ دیا ہے خبر دار ہو کہ میں نے ایک بزرگ نشان لکھا ہے جو مہدی کے ظہور کے لئے ایک پہلی نشانی ہے اور مامور کی مدد کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کا ایک پہلا تیر ہے کیونکہ سورج اور چاند کا گرہن ہو گیا اور ہریک آنکھوں والے نے ان کو دیکھ لیا پس وہ دونوں دوعادل گواہ کے قائم مقام ہو گئے پس توبہ کرو اور سید الثقلین کی بات کو یاد کرو اور اس سے کوئی انکار نہیں کرے گا بجز اس شخص کے جو جھوٹ کا پیرو ہو پس اپنے خیالات سے خوش مت ہو اور تالیاں مت بجاؤ اور ناز میں خوش ہوتے ہوئے آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے مت چلو اور باچھیں چیر چیر کر سرود مت لگاؤ اور مت ناچو