کُسفتْ وظہَر الکَدْرُ فی أجْزَاعِہا
عَفَتِ الإنارۃُ مثل ماءٍ یَنْضَبُ
گرہن لگا اور اس کے تمام کناروں میں گرہن ظاہر ہوگیا
اور
روشنی اس طرح دور ہو گئی جیسا کہ پانی زمین کے نیچے چلا جاتا ہے
حتی انثنتْ فی الساعتین ککافرٍ
ضاہتْ نذیرًا یُکْفَرَنْ ویُکذَّبُُ
یہاں تک کہ دو گھنٹہ میں شب تاریک سے مشابہ ہو گیا
اس
نذیر سے مشابہ ہوا جس کو کافر ٹھہرایا گیا
وتبیّنتْ صورُ الظلام کأنہا
ألقتْ یدًا فی اللیل أو ہی کوکبُ
اور اندھیرے کی کئی صورتیں ظاہر ہوئیں گویا کہ سورج نے
اپنا ہاتھ رات میں ڈال دیا یا
وہ ایک ستارہ ہے
النَّیِّرانِ تجاوَبا فی أمرنا
قاما کشہداءٍ وزالَ الہَیْدَبُ
سورج اور چاند ہمارے امر میں متفق ہو گئے
اور گواہوں کی طرح کھڑے ہو گئے اور شک کا بادل دور ہو گیا
لما رأیتُ
النّیِّرَینِ تکسَّفَا
وأنارَ وجہہما وزال الغَیہبُ
جبکہ میں نے دیکھا کہ سورج گرہن او چاند گرہن ہوا
اور پھر دیکھا کہ ان دونوں کا منہ روشن ہو گیا اور تاریکی جاتی رہی
ففہمتُ مِن لُطف الکریم
بخُطّتی
أنّ السَّنا بعدَ الدّجٰی مُترقَّبُ
پس میں خدا وند کریم کے لطف سے اپنے کام میں سمجھ گیا
کہ اندھیرے کے بعد روشنی امید کی گئی ہے
النیّرانِ یُبشِّران بنصرنا
غَرَبَا ونیِّرُ دینِنا لا
یَغْرُبُ
سورج اور چاند ہماری فتح کی خوشخبری دے رہے ہیں
وہ دونوں غروب ہو گئے اور ہمارے دین کا نیّر غروب نہیں ہو گا
یا معشر الأعداء توبوا واتقوا
واللّٰہِ إنی مُرسَلٌ و مقرَّبُ
اے
دشمنوں کے گروہو توبہ کرو اور بچو
اور بخدا میں بھیجا گیا ہوں اور قریب کیا گیا ہوں
إن کان زعمُ العلم علّۃَ کِبرکم
فأْتوا بمثل قصیدتی وتَعرَّبوا
اگر تمہارے تکبر کا سبب علم کا زعم ہو
تو
میرے قصیدہ جیسا بنا کر لاؤ اور عرب بن کر دکھاؤ