قمرُ السماء مشابہٌ بقریحتی کطَلِیحِ أسفارِ السّرَی یتطرَّبُ آسمان کا چاند میری طبیعت سے مشابہ ہے اس اونٹ کی طرح جو رات چلنے کی مشق رکھتا ہے خوش ہے نَصَعَتْ مقاصدُ ربّنا بخسوفہ فاطلُبْ ہداہ وما أخالُک تطلُبُ اس کے گرہن سے ہمارے خداوند کے مقاصد ظاہر ہو گئے سو اس کی ہدایت کو ڈھونڈھ اور میں نہیں امید رکھتا کہ تو ڈھونڈے ظہرتْ بفضل اللّٰہ فی بلداننا آیاتُہ العظمٰی فتوبوا وارْہَبوا خدا کے فضل سے اس کے بڑے نشان ہمارے ملک میں ظاہر ہو گئے پس توبہ کرو اور اس سے ڈرو قمرٌ کمثل ظعینۃٍ فی ظعنہا شاقَتْک جلوتُہ وفیہا ترغَبُ چاند ایسا ہے جیسے ہودہ میں ہودہ نشین عورت اس کا جلوہ شوق بخش ہے اور رغبت دہ ہے وَدَقُ الرّواعدِ قد تعرَّضَ حولہُ إرْزامُہا فی کل حین یُعْجِبُ بادلوں کا، مینہ اس کے گردا گرد ہے ان بادلوں کی آواز ہر وقت تعجب میں ڈالتی ہے غیمٌ کأطباقٍ تَصِرُّ خیامُہ رعدٌ کمثل الصالحین یُؤوِّبُ بادل طبق برطبق سے اس کے خیموں کی آواز آ رہی ہے اور بادل کی گرج نیک بختوں کی طرح تسبیح میں ہے قمرٌ بحِلْیتہ مُشاکِہۃِ الدَّمِ وجہٌ کغضبانٍ یہُول ویُرعِبُ چاند اپنی شکل میں خون کے مشابہ ہو رہا ہے غصہ والوں کی طرح منہ ہے جو ڈراتا ہے فی جَلْہَتَیْہِ بدا السحابُ کأنّہ کِفَفٌ علی أیدی التی ہی تَغْضَبُ اس کے دونوں کناروں میں اس طور سے بادل ہے گویا وہ سوئی کے نقش کے دائرے ہیں اس عورت کے ہاتھ میں جو غصہ میں ہو قد صار قمرُ اللّٰہِ مطعونَ الدُّجَی لیلٌ منیرٌ کافرٌ فتعجَّبوا خدا تعالیٰ کے چاند کو تاریکی کی تہمت لگائی گئی چاندنی رات اندھیری رات بن گئی پس تعجب کرو إنّیؔ أراہ کَنُؤْیِ دارٍ خَربَۃٍ لم یبق إلا مثل طَلَلٍ یَشْجَبُ میں اس کو خراب شدہ گھر کی خندق کی طرح دیکھتا ہوں صرف نشان کی طرح باقی رہ گیا ہے جو غمگین کرتا ہے کُسِفَتْ ذُکاءُ اللّٰہ بعد خسوفہ إنی أراہا مثل دارٍ تُخْرَبُ پھر سورج کو خسوف کے بعد گرہن لگا اور میں اس کو دیکھتا ہوں جیسا کہ گھر خراب شدہ