صُبّتْ علی قمر السماء مصیبۃٌ
وکمثلنا بزوالِ نورٍ یُرْعَبُ
آسمان کے چاند پر مصیبت پڑ گئی
اور ہماری طرح نور کے
زوال پر ڈرایا جاتا ہے
إنی أریٰ قطرًا لدیہ کأنّہ
یبکی کرجل یُنْہَبَنْ ویُخیَّبُ
میں مینہ اس کے پاس دیکھتا ہوں گویا کہ وہ
اس شخص کی طرح روتا ہے جو لوٹا جائے اور نومید کیا جائے
یا
قمرَ زاویۃِ السّماء تصبَّرَنْ
مثلی فیدرکک النّصیرُ الأقربُ
اے گوشہ آسمان کے چاند
میری مانند صبر کر پس خدا تیری مدد کرے گا
أَبْشِرْ سینحسر الظلامُ بفضلہ
إن البلیّۃَ لا تدوم وتذہَبُ
خوش ہو کہ عنقریب تاریکی دور ہو جائے گی
مصیبت ہمیشہ نہیں رہتی اور چلی جاتی ہے
إن المہیمن لا یُضِیع ضیاءَہ
فلکلِّ نورٍ حافظٌ ومؤرِّبُ
خدا اپنی روشنی کو دور نہیں کرتا
اور ہریک
نور کے لئے نگہبان ہے اور پورا کرنے والا
ہذا ظلام الساعتین و إنّنی
مِن بُرہۃٍ أرنو الدُّجی وأُعذَّبُ
یہ تو دو گھڑی کا اندھیرا ہے اور میں
ایک زمانہ سے اندھیرا دیکھ رہا ہوں اور دکھ اٹھا رہا
ہوں
تَلِجُ السحابَ لِتَبْکِیَنَّ تألُّمًا
والصّبر خیرٌ للمصاب وأصوَبُ
تو بادل میں داخل ہوتا ہے تاکہ درد دل سے رو دے
اور مصیبت زدہ کے لئے صبر کرنا بہتر ہے
ذرفتْ عیونُک والدموعُ
تحدّرتْ
مِن مثلک الأوّابِ ہذا أعْجَبُ
تیرے آنسو جاری ہو گئے
اور یہ تیرے جیسے اوّاب سے عجیب ہے
ہلاؔ سألتَ مجرِّبًا عند الأذیٰ
ولکلّ أمرٍ عقدۃٌ ومُجرِّبُ
تو نے دکھ کے وقت کسی
تجربہ کار کو کیوں نہ پوچھا
اور ہریک امر میں ایک عقدہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی ایک تجربہ کار
تبکی علٰی ہذا القلیل من الدُّجیٰ
سِرْنا بجَوف اللیل یا مُتأوِّبُ
تو تھوڑے سے اندھیرے کے لئے روتا
ہے
ہم تو رات کی وسط میں پھر رہے ہیں اے رات کے ابتدا میں آنے والے
أُثنی علٰی ربّ الأنام فإنہ
أبدیٰ نظیری فی السّماء فأَطْرَبُ
میں خدا تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں
جو اس نے آسمان میں
میرا نظیر ظاہر کیا