وأری الدنیَّ الغُولَ یہوی نحوہم وإلی أشائبِ قومہم یتأشّبُ اور میں کمینہ دیو کو دیکھتا ہوں جو ان کی طرف جھکتا ہے اور ان جماعتوں میں ملتا ہے إبلٌ من الفاقات أُحْنِقَ صلبُہا فاختار أدیارًا لقُوتٍ یکسِبُ ایک اونٹ ہے جو فاقوں سے اس کی کمر دبلی ہو گئی سو اس نے گرجا اختیار کیا تاقوت حاصل کرے لیسوا من الأسرار فی شیء ہُدًی ما إنْ أری مَن بالدقائق یَأْرَبُ اسرار ہدایت میں سے ان کو کچھ بھی حصہ نہیں میں ان میں کوئی نہیں دیکھتا جو باریک باتوں کو شناخت کرنے والا ہو ما آمنوا حتی إذا خَسَفَ القمرْ عَلِہَتْ قلوبُ المنکرین وأُنِّبوا ایمان نہ لائے یہاں تک کہ چاند گرہن ہوا منکروں کے دل حیران ہو گئے اور سرزنش کئے گئے یءِسوا من الرحمٰن والکلِمِ الّتی کانوا علیہا قائمین وثُرِّبوا خدا تعالیٰ سے نومید ہو گئے اور نیز ان کلموں سے جن پر قائم تھے اور سرزنش کئے گئے أولم تکُنْ تدری قلوبُ عِدا الہدی أنّ المہیمن یُخْزِیَنْ مَن ینکُبُ کیا وہ جو ہدایت کے دشمن ہیں ان کے دل نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ راہ سے پھرنے والے کو رسوا کرتا ہے أولم تکنْ عینُ البصیر رقیبَنا ہل یستوی الأتقی ورجلٌ أَحْوَبُ کیا دیکھنے والے کی آنکھ ہم کو تاڑ نہیں رہی کیا پرہیز گار اور گنہ گار دونوں برابر ہو سکتے ہیں ظہرؔ ت علامات الخسوف بلیلۃ طَلِقٍ لذیذٍ والرواعدُ تصخَبُ چاند گرہن کی علامات ایک رات خوشنما میں ظاہر ہو گئیں اور بادل آواز کر رہے ہیں متفرقٌ غیمُ السماء وزَجْلُہ بِیْضٌ کأنّ نِعاجَ وادٍ تَسْرُبُ بادل الگ الگ ہیں اور ان کی جماعتیں سفید ہیں گویا جنگل کی بھیڑیں ایک طرف چلی جاتی ہیں طورًا یُری مثل الظباء بحسنہا أُخری کآرام تمیسُ وتہرُبُ بعض وقت تو یہ بادلوں کے ٹکڑے ہرنوں کی طرح اپنے حسن میں ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی کم عمر ہرنوں کی طرح ناز سے چلتے اور بھاگتے ہیں قَمَرٌ کظُعْنٍ والسحابُ قِرامُہا والریحُ کِلَّتُہا لیُنْہَی الأجْنَبُ چاند ہودج نشین عورتوں کی طرح ہے اور بادل اس ہودہ کا موٹا پردہ ہے اور ہوا اس کا باریک پردہ ہے تاکہ اجنبی کو روکا جاوے