إنّی أریٰ إیذاء ہم وفسادہم ویذُوب روحی والوجودُ یُثقَّبُ میں ان کے ایذا اور فساد دیکھتا ہوں اور روح گداز ہوتی ہے اور وجود میں سوراخ ہوتا ہے عینٌ جرتْ مِن قطرِ دمعٍ عینُہا قلبٌ علٰی جُمُر الغضا یتقلّبُ آنکھ سے آنسوؤں کی بارش کے ساتھ چشمہ جاری ہے دل افروختہ کو ٹیلوں پر جو غضا کی لکڑی کے ہیں لوٹ رہا ہے مِن کل قُنّاتٍ وجبلٍ شاہقٍ وشوامخٍ نسلوا ووُطئَ المِجْنَبُ تمام پہاڑوں کی چوٹیوں اور بلند پہاڑوں سے اور اونچے پہاڑوں سے دشمن دوڑے اور عرب کی سرحد تک پہنچ گئے وعلی قِنان الشامخات مصیبۃٌ عُظمٰی فأین الوہد منہم تہرُبُ اور بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر ایک بڑی مصیبت ہے پس نشیب ان کے حملوں سے کہاں بھاگ جائیں ریح المصائف قد أطالت لہبہا مِن سَوْمِہا وسہامِہا نتعجّبُ گرمی کی ہوا نے اپنے شعلے لمبے کر دیئے اس کے چلنے اور اس کی لو سے ہم تعجب کرتے ہیں ما بقِی مِن سبب ولا من رُمَّۃٍ إلّا الّذی ہو قادر ومسبِّبُ کوئی پکا سبب اور کوئی کچا سبب باقی نہ رہا مگر وہ خدا جو سببوں کو پیدا کرتا ہے شبّوؔ ا لظَی الطَّغویٰ فبعد ضرامہ ہاجَ الدّخان وکلّ طرف یشغبُ انہوں نے حد سے بڑھنے کی آگ کو بھڑکا دیا سو اس کے بھڑکنے کے بعد دھواں اٹھا اور ہر ایک طرف تباہی ڈالی حَرَق کجبلٍ ساطعٌ أسنامُہ فِتَنٌ تبید الکائنات وتنہَبُ یہ وہ آگ ہے جو بلند پہاڑ کی طرح اس کی چوٹی ہے یہ وہ فتنے ہیں جو ہلاک کرتے جاتے اور لوٹتے جاتے ہیں إنّی أریٰ أقوالہم کأسِنّۃٍ تؤذی القلوبَ جروحُہا وتعذِّبُ میں ان کی باتوں کو برچھیوں کی طرح دیکھتا ہوں دلوں کو ان کے زخم دکھ دیتے ہیں اور عذاب پہنچاتے ہیں أو کابنِ عمِّ المرہَفات کلالۃً أو کالسہام المُصمِیات تُتبِّبُ یا وہ دور کے رشتہ سے تلواروں کے چچیرے بھائی ہیں یا وہ ان تیروں کی طرح جو خطا نہیں کرتے ہلاک کرنے والے ہیں ظَلَعوا إلی ظلمٍ وزیغٍ حِشْنَۃً وإلی کلامٍ یُؤذِیَنْ ویحرِّبُ کینہ کی وجہ سے ظلم اور کجی کی طرف مائل ہو گئے اور اس کلام کی طرف مائل ہوئے جو دکھ دیتی اور غصہ دلاتی ہے