وہو لبنۃ أولٰی لتأسیس نظام الخیر وتعمیر المساجد وتخریب الدیر، وتغلُب فیہ القویٰ السماویۃ علی القوی الأرضیۃ، والأنوار المسیحیۃ علی الحِیل الدجّالیۃ، ویُری اللّٰہُ خَلْقَہ سراجًا وہّاجًا، فیدخلون فی دین اللّٰہ أفواجًا، وکان قدرًا مقضیًّا من ربّ العالمین اور یہ نظام خیر کی بنیاد کے لئے پہلی اینٹ ہے اور نیز مساجد کی تعمیر اور دیر کی خرابی کے لئے اور اس میں آسمانی قوتیں زمینی قوتوں پر غالب آ جائیں گی اور مسیحی نور دجالی حیلوں سے بڑھ جائیں گے اور خدا تعالیٰ اپنی خلقت کو ایک روشن چراغ دکھائے گا پس وہ فوج در فوج دین الٰہی میں داخل ہوں گی۔ القصیدۃ قد جاء یومُ اللّٰہ یومٌ أطیبُ بُشریٰ لذی رُشد یقوم ویطلبُ خدا کا دن آ گیا جو پاک دن ہے اس رشید کو خوشخبری ہو جو کھڑا ہوتا ہے اور اس کو ڈھونڈتا ہے سبقتْ یدا جبّارِنا سیفَ العدا فتری العدوَّ النِّکْسَ کیف یُترَّبُ ہمارے جبّار کے ہاتھ دشمنوں کی تلوار سے بڑھ گئے پس تو دشمن ضعیف کو دیکھے گا کہ کیونکر خاک میں ملایا جاتا ہے وأنا المسیحُ فلا تظنّنْ غیرَہُ قد جاء ک المہدی وأنت تُکذِّبُ اور میں ہی مسیح موعود ہوں پس کوئی دوسرا خیال مت کر تیرے پاس مہدی موعود آیا اور تو تکذیب کرتا ہے ہل غادرَ الکفارُ من نوع الأذیٰ أم لا تری الإسلام کیف یُذوَّبُ کیا کفار نے کسی قسم کا دکھ اٹھا رکھا ہے یا تو اسلام کو نہیں دیکھتا کہ کیونکر گداز کیا جاتا ہے حلّتْ بأرض المسلمین جموعہم وخبیثُہم یؤذی النبیَّ ویَأْشِبُ مسلمانوں کی زمین میں ان کے گروہ نازل ہوئے اور ان میں سے جو پلید ہے وہ نبی صلعم کو دکھ دیتا اور عیب نکالتا ہے