وربما یختلج فی قلبک أنّ القرآن لا یشیر إلٰی رمضان، فاعلَمْ أنّؔ الفرقان ذکرہ علی الطریق المجمَل المَطْوِیّ، وہو کاف للبصیر
الزکیّ، ولا حاجۃ إلٰی تفصیل وتبیین
وأما إذا سألت شیءًا عن تفصیلہ، فأعلّمک أقلَّ من قلیلہ، فاعلم أن اللّٰہ تبارک وتعالٰی أسّس نظام الدین من رمضان، فإنہ أنزل فیہ القرآن، فلما ثبتتْ خصوصیۃ ہذا الشہر
المبارک بنظام الدین، وفیہ لیلۃ القدر وہو مبدأ لأنوار الدین المتین، وثبت أن العنایۃ الإلٰہیّۃ قد توجہت إلٰی نظام الخیر فی رمضان وأجرت الفیضانَ، فبانَ أن اللّٰہ لا یتوجہ إلٰی إعانۃ النظام فی آخر أیام الظلام إلا
فی ذلک الشہر المبارک للإسلام۔ وقد عرفتَ أن الانخساف والانکساف توجُّہٌ جمالیّ وتجلٍّ جلالیّ، وفیہ أنوارٌ لنشأۃ ثانیۃ، وتبدلات روحانیۃ
اور بسا اوقات تیرے دل میں یہ گذرے گا کہ قرآن رمضان کی
طرف اشارہ نہیں کرتا پس جان
کہ قرآن نے مجمل طور پر خسوف کسوف کا ذکر کیا ہے اور وہ ایک بصیر زکی کے لئے کافی ہے
اور کسی تفصیل کی حاجت نہیں۔
لیکن اگر تو کچھ اس کی
تفصیل چاہے سو میں کمتر از کم تجھے بتلاتا ہوں سو جان کہ
خدا تعالیٰ نے دین کا نظام رمضان سے ہی باندھا ہے کیونکہ اس نے اس میں
قرآن نازل کیا ہے پس جب کہ اس مہینہ کی خصوصیت
نظام دین کے ساتھ ثابت ہوئی اور اسی مہینہ میں
لیلہ القدر ہے اور وہ مبدء دین کے انوار کا ہے اور ثابت ہوا کہ عنایت الٰہیہ
رمضان میں ہی نظام خیر کی طرف متوجہ ہوئی ہے اور ابتدا فیضان کا
اسی مہینہ سے
ہوا پس اس سے ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ اعانت نظام کے لئے تاریکی کے انتہا کے وقت
صرف رمضان میں ہی توجہ فرماتا ہے اور تو پہچان چکا ہے کہ خسوف اور کسوف
جمالی اور جلالی تجلی ہے اور یہ تجلی نشأۃ ثانیہ اور تبدلات روحانیہ کے لئے ہے