واستمرّت عادتہ، أنہ إذا جاء زمان الظلام وجُعِل دینُ الإسلام غَرَضَ السہام، وطال علیہ ألسنۃُ الخواصّ والعوامّ، واختار الناسُ طرقَ الارتداد، وأفسدوا فی الأرض غایۃ الإفساد، فتتوجہ القیّومیّۃ الإلٰہیّۃ إلٰی حفظہ وصیانتہ، ویبعث عبدًا لإعانتہ، فیجدّد دینَ اللّٰہ بعلمہ وصدقہ وأمانتہ، ویجعل اللّٰہ ذلک المبعوث زکیًّا وبالفیوض حریًّا، ویکشف عینَہ ویہَب لہ علمًا غضًّا طریًّا، ویجعلہ لعلوم الأنبیاء من الوارثین۔ فیأتی فی حُللٍ تُقابلُ حُللَ فساد الزمان، وما یقول إلا ما علّمہ لسان الرحمٰن، وتُعطَی لہ فنون من مبدأ الفیضان، علی مناسبات فساد أہل البلدان۔ ثم لا تعجب مِن أنّ روحانیۃ القمر تقبَل بعضَ أنوار اللّٰہ فی حالۃ الانخساف، وروحانیۃ الشمس فی وقت الانکساف، فإن ہذا من أسرار إلٰہیۃ، وعجائبات ربّانیۃ، فلا تکن من المرتابین۔ اور عادت اسی طرح پر جاری ہے کہ جب تاریکی کا زمانہ آ جائے اور دین اسلام تیروں کا نشانہ ٹھہرایا جاوے اور اس پر خواص اور عوام کی زبانیں جاری ہوں اور لوگ ارتداد کے طریقے اختیار کرلیں اور زمین میں غایت درجہ کا فساد ڈال دیں پس قیّومیت الٰہیہ توجہ فرماتی ہے کہ تادین کی حفاظت کرے اور کوئی بندہ اس کی اعانت کے لئے کھڑا کر دیتا ہے پس وہ دین اسلام کو اپنے علم اور صدق اور امانت کے ساتھ تازہ کر دیتا ہے اور خدا اس مبعوث کو زکی اور لائق فیض بناتا ہے اور اس کی آنکھ کھولتا ہے اور اس کو تازہ بتازہ علم بخشتا ہے اور نبیوں کے علموں کا اس کو وارث ٹھہراتا ہے۔ پس وہ ایسے پیرایوں میں آتا ہے جو فساد زمانہ کے پیرایوں کے مقابل پر ہوتے ہیں اور وہی کہتا ہے جو خدا کی زبان نے اسے سکھایا ہو اور مبدء فیضان سے کئی قسم کے علم اس کو دیئے جاتے ہیں جو زمانہ کے فساد کے موافق ہوں۔ پھر تو اس بات سے کچھ تعجب مت کر کہ چاند کی روحانیت حالت انخساف میں کچھ انوار الٰہی قبول کر لیتی ہے ایسا ہی سورج کی روحانیت بھی کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کے بھیدوں اور عجائبات میں سے ہے پس اس میں شک مت کر۔