ومن التَّیْہِ إلی الطریقۃ، ویتنبہ الذین أخطأوا مشربَہم من الحق والصواب، ویرجع الذین سرّحوا أفکارہم فی مرعی التباب، ویتندم الذین ضاع من أیدیہم تعظیمُ الإمام، ویتطہّر الذین تلطّخوا من أنواع الآثام، ویہیج تلک التأثیراتُ فی قُوی الأفلاک بحکمِ مالک الإحیاء والإہلاک، فیمتلأُ العالَمُ من الوحدانیۃ وأنوار العرفان، ویُخزی اللّٰہ حُماۃَ الشرک والکذب والعدوان، وتأتی أیامُ جذبات اللّٰہ بعدؔ أیّام الضلال، وتجد کل نفسٍ ما تلیق بہا من الکمال، فمن کان حَرِیًّا بمعارف التوحید یعطی لہ غَضٌّ طَرِیٌّ من حقائق الکتاب المجید، ومن کان مستعِدًّا للعبادات، یُعْطٰی لہ توفیق الحسنات والطاعات، ویجعل اللّٰہ مقامَ المجدِّد مرکزَ البلاد ومرجع العباد، ویبلغ أثرہ إلٰی أقصی الأرضین۔ فالحاصل أن من خواص ہذا الاجتماع رجوعَ الخَلق إلی اللّٰہ المطاع مجاز سے حقیقت کی طرف آئیں گے اور آوارہ گردی سے راہ راست کی طرف رخ کریں گے اور جنہوں نے اپنے مشرب حق میں خطا کی وہ متنبہ ہو جائیں گے اور جو ہلاکت کی طرف گئے تھے وہ پھر رجوع کریں گے اور جن کے ہاتھوں سے امام کی تعظیم ضائع ہو گئی وہ شرمندہ ہوں گے اور جنہوں نے ان دنوں کا قدر نہیں کیا وہ ندامت اٹھاویں گے اور جو لوگ گناہ میں آلودہ تھے وہ پاک ہو جائیں گے اور یہ تاثیریں افلاک کے قویٰ میں جوش میں آئیں گی اس مالک کے حکم سے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ پس یہ عالم توحید اور معرفت کے نور سے بھر جائے گا اور خدا تعالیٰ شرک اور جھوٹ اور ظلم کے حامیوں کو رسوا کرے گا اور بعد گمراہی کے جذبات الٰہی کے دن آئیں گے اور ہریک نفس اس کمال کو پا لے گا جو اس کی شان کے لائق ہے پس جو شخص توحید کے معارف کے لائق ہوگا اس کو تازہ بتازہ حقائق قرآن شریف عطا ہوں گے اور جو شخص عبادات کے لئے مستعد ہوگا اس کو حسنات کی توفیق دی جائے گی اور خدا تعالیٰ مجدد کے مقام کو مرکز بلاد کرے گا اور مرجع عباد ٹھہرائے گا اور زمین کے کناروں تک اس کا اثر پہنچادے گا۔ پس خلاصہ کلام یہ کہ اس خسوف کسوف کے اجتماع کے خواص میں سے ایک یہ خاصہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف