یحبّ الضعفاءَ الأتقیاء ، ویُجیح أصلَ المفسدین الذین یترکون وصایا الحق ومواقعہا، ویَقْفُون ما لیس لہم بہ علم، ویقولون آمنّا بالقرآن وماہم بمؤمنین۔ یصرّون علی أمور لا یعلمون حقیقتہا، وأُمروا بالتزام طرق التقویٰ فترؔ !کوہا، وکفّروا إخوانہم المؤمنین۔ أولئک یئسوا من أیام اللّٰہ وبشاراتہا ونبذوہا وراء أبعَدِ المُبعَدین، وسیعلمون کیف یکون مآل المفتّنین الخائنین۔ ومن خواص ہذین الکسوفین أنہما إذا اجتمعا فی رمضان الذی أنزل اللّٰہ فیہ القرآن۔ فیُشیع اللّٰہ بعدہا العلومَ الصادقۃ الصحیحۃ، ویُبطِلُ البدعاتِ الباطلۃ القبیحۃ، ویہوی الناس إلٰی إمامہم باستعدادات شتی، وتجری من العلوم الحقۃ أنہارٌ عظمٰی، ویتوجّہ الخَلق من القشر إلی اللُّبّ، ومن البُغض إلی الحُبّ، ومن المجاز إلی الحقیقۃ کمزوروں اور نیک بختوں کو دوست رکھتا ہے اور مفسدوں کی بیخ کنی کرتا ہے وہ مفسد جو سچی نصائح اور ان کے مواقع چھوڑ دیتے ہیں اور ان باتوں کی پیروی کرتے ہیں جن کا انہیں علم نہیں اور کہتے ہیں کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ نہیں ایمان لائے ان امور پر اصرار کرتے ہیں جن کی حقیقت کی انہیں خبر نہیں اور حکم تھا کہ تقویٰ کے طریقوں کو لازم پکڑو سو انہوں نے ان راہوں کو چھوڑ دیا اور اپنے بعض بھائیوں کو کافر ٹھہرایا۔ یہ لوگ خدا تعالیٰ کے دنوں اور ان کی بشارتوں سے نا امید ہو گئے اور ان کو بہت دور ڈال دیا۔ پس عنقریب جان لیں گے کہ فتنہ پردازوں اور خیانت پیشوں کا انجام کیا ہے۔ اور اس خسوف کسوف کے خواص میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب وہ رمضان میں جمع ہوں وہ رمضان جس میں قرآن نازل ہوا۔ سو ان کے بعد خدا تعالیٰ علوم صحیحہ کو پھیلائے گا اور بدعات باطلہ کو دور کرے گا اور خداتعالیٰ امام زمان کے لئے ایک عظیم الشان تجلّی دکھلائے گا وہ نہایت مہربانی کی تجلّی ہوگی اور زمین میں اس کی مثل نہ پائی جائے گی اور لوگ اپنے امام کی طرف مختلف استعدادوں کے ساتھ آئیں گے اور علوم حقہ سے نہریں جاری ہوں گی اور لوگ چھلکے سے مغز کی طرف توجہ کریں گے اور بغض سے حب کی طرف پھریں گے اور