فکذٰلک جاء فیؔ کتب الأولین۔ وإن کنتَ فی شک فانظر الإصحاح الثانی من صحف یوئیل والثانی والثلا ثین من حزقیل، واتق اللّٰہ ولا تتبع سبل المجرمین۔ وحاصل الکلام أن الخسوف والکسوف آیتان مخوّفتان، وإذا اجتمعا فہو تہدید شدید من الرحمٰن، وإشارۃٌ إلی أن العذاب قد تقرّر وأُکِّدَ من اللّٰہ لأہل العدوان۔ ومع ذلک مِن خواصہما أنہما إذا ظہرا فی زمان وتجلَّیَا لبلدانٍ، فینصر اللّٰہ أہلَہا المظلومین۔ ویقوّی المستضعَفین المغلوبین، ویرحم قومًا أُوذوا وکُفّروا ولُعنوا من غیر حق، فینزل لہم آیات من السماء ، وحمایات من حضرۃ الکبریاء ، ویخزی المنکرین المعادین، ویحکم بالحق وہو أحکم الحاکمین۔ ویقضی بین المتشاجرین، ویقطع دابر المعتدین۔ فتصیبہم خجالۃٌ وإحجام، وتندُّم وانہزام، وکذلک یجزی الکاذبین اور اسی طرح پہلی کتابوں میں آیا ہے۔ اور اگر تجھے شک ہے پس تو دوسرا باب یوئیل نبی کی کتاب کا اور بتیس۳۲ باب حزقیل نبی کی کتاب کا دیکھ اور خدا سے ڈر اور مجرموں کی راہ کی پیروی مت کر۔ اور حاصل کلام یہ کہ خسوف اور کسوف دو ڈرانے والے نشان ہیں اور جب یہ دونوں جمع ہو جائیں تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سخت طور کا ڈرانا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ظالموں کے لئے بہت نزدیک عذاب قرار پا چکا ہے اور باوجود اس کے ان کے خواص میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب وہ دونوں مل کر کسی زمانہ میں ظاہر ہوں اور کسی ملک پر ان کا ظہور ہو سو اس ملک میں جو لوگ مظلوم ہیں ان کی خدا تعالیٰ مدد کرتا ہے اور ضعیفوں اور مغلوبوں کو قوت بخشتا ہے اور اس قوم پر رحم کرتا ہے جو دکھ دیئے گئے اور کافر ٹھہرائے گئے اور ناحق *** کئے گئے سو ان کی تائید کے لئے آسمان سے نشان اترتے ہیں اور حمایت الٰہی نازل ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ منکروں اور دشمنوں کو رسوا کرتا ہے سچا فیصلہ کر دیتا ہے اور وہ احکم الحاکمین ہے۔ اور نزاعوں کا تصفیہ کر کے تجاوز کرنے والوں کی بیخ کنی کر دیتا ہے۔ سو ان کو ایک شرمندگی اور زد اور ندامت اور شکست پہنچتی ہے اور اسی طرح خدا تعالیٰ جھوٹوں کو سزا دیتا ہے