من أسباب أُثبِتَتْ بالبرہان، وفُصِّلتْ فی الکتب بتفصیل البیان، فما لہا ولآفات تتوجہ إلی نوع الإنسان، عند کثرۃ العصیان؟ لأن الأمر الذی مُثْبَتٌ عند أولی العرفان ہو أن اللّٰہ خلَق الإنسان لیُدخِلہ فی المحبوبین المقبولین أو المردودین المطرودین۔ وجعَل تغیُّراتِ العالم دالّۃً علٰی خیرہ وشرہ، ونفعِہ وضرّہ، وجعَل العالم لہ کمثل المبشِّرین والمنذِرین؛ وکلما أراد اللّٰہ مِن عذاب وتعذیب أہل الزمان، فلا ینزل إلا بعدما أذنبتْ أیدی الإنسان، وأصرّ علیہ کإصرار أہل الطغیان، واعتدی کالمجترئین۔ وقد جعل لکل شیء سببًا فی العالمین، وجعَل کلَّ آیۃ مخوّفۃ فی الزمان تنبیہًا لأہل الشقاوۃ والخسران، وإنذارًا للمسرفین۔ ومبشرۃً للّذین نزلوا بحضرۃ الوفاء ، وحلّوا محلّ الصفاء والاصطفاء منقطعین۔ وہذہ سنۃ مستمرۃ، وعادۃ قدیمۃ، تجد آثارہا فی قرون خالیۃ، من حضرۃ متعالیۃ ان اسباب سے ہوتا ہے جو کتابوں میں درج ہیں۔ پس ان کو ان آفات سے کیا تعلق ہے جو انسان پر گناہوں کی شامت سے آتی ہیں کیونکہ عارفوں کے نزدیک یہ بات مسلّم ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ اس کو محبوبوں میں یا مردودوں میں داخل کرے اور اللہ تعالیٰ نے تمام تغیر عالم کے انسان کی خیر اور شر اور نفع اور ضرر پر دلالت کرنے والے پیدا کئے ہیں اور اس کے لئے تمام عالم کو مبشر اور منذر کی طرح بنا دیا ہے اور ہریک وہ عذاب جو خدا تعالیٰ نے انسانوں کی سزا دہی کے لئے مقرر کیا ہے وہ قبل اس کے جو انسان گناہ کرے اور گناہ پر اصرار کرے اور حد سے گذر جائے نازل نہیں ہوتا۔ اور خدا تعالیٰ نے عالم میں ہریک شے کے لئے ایک سبب بنایا ہے اور ہریک ڈرانے والا نشان بدبختوں اور زیادتی کرنے والوں کے لئے مقرر کیا ہے۔ اور وہ نشان ان کے لئے مبشر ہے جو وفا کے آستانہ پر اتر آئے اور صفا اور اصطفاء میں منقطع ہو کر نازل ہوئے۔ اور یہ ایک سنت قدیمہ ہے جس کے آثار تو پہلے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے پائے گا۔