وحکمتہ التی تری اللطف والجمال أن یعلّم الناسَ عند کسوفٍ طرقًا ہی تدفع موجباتِہ وتزیل سیّئاتہ، فعلّمہم ہذہ الطرقَ علی لسان خیر
المرسلین۔ ولا شک أن الحسنات یُذہبن السیّئات، وتطفی نیرانًا دموعُ المستغفرین۔ وإذا عمل عبدٌ عملا صالحا بإمحاض النیۃ وکمال الطاعۃ، وأرضی بہ ربہ بتحمُّل الأَذِیّۃ، فیعارض ہذا العملُ الذی کَسَبَہ الشرَّ
الذی انعقد سببُہ، فیجعلہ اللّٰہ من المحفوظین۔ وہذا من سنۃ اللّٰہ أن الدعاء یردّ البلاء ، ولا یلتقی دعاء وبلاء إلا وإنّ الدعاء یغلب بإذن اللّٰہ إذا ما خرج من شفتَی الأوّابین، فطوبٰی للدّاعین۔
وؔ إذا کان کسوف
أحد من الشمس والقمر دالاًّ علٰی آفات الزمان، ومُوجِبَ أنواعِ البلایا والخُسران، فما بالُ زمان اجتمع فیہ کسوفانِ، فاتقوا اللّٰہ یا معشر الإخوان، ولا تکونوا من الغافلین۔ لا یقال إن النیّرَین ینکسفان
اور اس کی
پر لطف حکمت تقاضا کرتی ہے جو کسی کسوف کے وقت لوگوں کو وہ طریقے سکھلاوے جو کسوف کے
موجبات کو دور کر دیں اور اس کی بدیوں کو ہٹا دیں پس اس نے اپنے نبی کی زبان پر یہ تمام
طریقے سکھلا دیئے۔
اور کچھ شک نہیں کہ بدیاں نیکیوں سے دور ہوتی ہیں اور گناہ کی معافی چاہنے والوں کے آنسو آگ کو بجھا دیتے ہیں۔
اور جس وقت کوئی بندہ کوئی نیک عمل کرتا ہے اور خدا
تعالیٰ کو اس سے راضی کر دیتا ہے
پس وہ نیک عمل اس کی بدی کا مقابلہ کرتا ہے جس کے اسباب مہیا ہو گئے ہیں
پس خدا تعالیٰ اس عامل کو اس بدی سے بچا لیتا ہے۔ اور یہ خدا تعالیٰ کی سنت
ہے کہ وہ دعا کے ساتھ
بلا کو رد کرتا ہے اور دعا اور بلا کبھی دونوں جمع نہیں ہوتیں مگر دعا باذن الٰہی بلا پر غالب آتی ہے جب
ایسے لبوں سے نکلتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے
والے ہیں سو دعا کرنے والوں کو خوشخبری ہو۔
اور جبکہ ایک گرہن ہی اس قدر آفتوں پر دلالت کرتا ہے تو اس زمانہ کا کیا حال جس میں
دونوں گرہن جمع ہو گئے ہوں سو خدائے تعالیٰ سے
ڈرو
اور غافل مت ہو۔ یہ کہنا بے جا ہے کہ سورج گرہن اور چاند گرہن