کثرۃ المعاصی وغلوّ الخَلق فی العصیان، وکثرۃ الخبیثات والخبیثین، ولأجل ذلک أمرصلعم عند رؤیتہما لفعل الخیرات والمبادرۃ إلی
الصالحات من الصلوات واؔ لصدقات بإمحاض النیات والدعاء والبکاء کالقانتین والقانتات، والرجوعِ إلی اللّٰہ والذکر والتضرعات، والقیام والرکوع والسجدات، والتوبۃ والإنابۃ والاستغفار، وطلبِ المغفرۃ من
الغفار، والخشوع والابتہال والانکسار، ومثلِ ذلک علی حسب الطاقۃ من الإحسان وفَکِّ الرقبۃ والعتاقۃ ومواساۃ الیتامٰی والغرباء ، والتذلّل کل التذلّل فی حضرۃ الکبریاء ، ربّ السّماوات والأرضین۔ فکان السرّ
فی ہذہ الأعمال والخشوع والابتہال أن الشمس والقمر لا تنکسفان إلا عند آفۃ نازلۃ وداہیۃ منزلۃ، وعند قرب أیّام البأس وانعقاد أسباب الشر الذی ہی مخفیۃ عن أعین الناس، ویعلمہا ربّ العالمین۔ فتقتضی
رحمۃ اللّٰہ تعالٰی
ہوتے ہیں کہ جب دنیا میں گناہ بہت ہوں اور خلقت میں بدکاریاں پھیل جائیں اور پلید بہت ہو جائیں اور
اسی غرض سے رسول اللہ صلعم نے گرہن کے وقت میں فرمایا کہ بہت
نیکیاں کریں
اور نیک کاموں کی طرف جلدی کریں جیسی خالص نیت کے ساتھ نماز اور روزہ اور دعا کرنا اور رونا اور
اللہ تعالیٰ کی تعریف اور ذکر اور تضرع اور قیام اور رکوع
اور سجدہ
اور توبہ اور انابت اور استغفار اور
خشوع اور ابتہال اور انکسار اور ایسا ہی حسب طاقت
احسان اور غلام آزاد کرنا اور کسی کو سبکدوش کرنا اور یتیموں کی غم خواری اور جناب الٰہی میں
تذلل پس گویا کہ ان اعمال کی بجا آوری میں جو نماز اور خشوع اور ابتہال ہے یہی بھید
ہے کہ چاند اور سورج کا اسی حالت میں گرہن ہوتا ہے کہ
جب کوئی آفت نازل ہونے والی ہو اور کسی
مصیبت کا زمانہ قریب ہو اور آسمان پر ایسے اسباب شر کے
جمع ہو گئے ہوں جو لوگوں کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں اور صرف ان کو خداتعالیٰ جانتا ہے پس خدا تعالیٰ کی رحمت