کثیرا من کتب الحدیث واؔ لتفسیر، وفکّر فکرا عمیقًا فی کل أمر، فہو دَرُّ أفکارہ، ونور أنظارہ، ولیس علامۃُ العارف من دون المعارف۔
وإنی إذا قرأتُ کتابہ وتصفحت أبوابہ ورفعت جلبابہ، فاستملحتُ بیانہ، ومدحتُ شأنہ، وما وجدت فیہ شیئا شانَہ، وأدعو أن یشیع اللّٰہ کتابہ مع کتبی، ویضع فیہ قبولیّۃً ویُدخل فیہ روحا منہ، ویجعل أفئدۃ من
الناس تہوی إلیہ، وجزاہ فی الدارین وبارک فی مقاصدہ ویدخلہ فی المقبولین۔ ولما فرغ من تألیف کتابہ حملہ إخلاصہ علی أن یکون مُبلِّغَ معارفنا إلی علماء وطنہ، ویخبر فیہم عن أخبارنا، ویکون منادیا ویطلق
نداءًً فی کل ناحیۃ، ویُشیع الکتب لیتضح الأمر علی أہل تلک البلاد، وہذا ہو المراد الذی کنا ندعو لہ فی اللیل والنہار۔ وأری أنہ رجل صادق القول والوعد، یتّقی الفضول فی الکلام
کتابیں حدیث اور تفسیر کی
جمع کیں اور ہر ایک امر میں پوری پوری غور کی سو یہ کتاب اس کے فکروں کا ایک
دودھ اور اس کی نظروں کا ایک نور ہے اور عارف کی علامت اس کی معرفت کی باتیں ہی ہوتی ہیں اور جب میں
نے
اس کی کتاب کو پڑھا اور صفحہ صفحہ کرکے اس کے باب دیکھے اور اس کی چادر اٹھائی تو میں نے اس کے بیان کو
ملیح پایا اور اس کی شان کی میں نے تعریف کی اور میں نے اس میں
کوئی ایسی بات نہ پائی کہ جو اس کو بٹّہ لگاوے اور میں دعا کرتا ہوں
کہ خدا اس کی کتاب کو میری کتابوں کے ساتھ شائع کرے اور اس میں قبولیت رکھ دیوے اور اس میں اپنی طرف سے ایک روح
داخل کرے اور
بعض دل پیدا کرے جو اس کی طرف جھک جاویں اور اس کے مؤلف کو دونوں جہانوں میں بدلہ دے اور اس کے مقاصد میں برکت ڈالے
اور اس کو مقبولوں میں داخل کرے اور جب
وہ اپنی تالیف سے فارغ ہوا تو اس کے اخلاص نے اس کو اس بات پر آمادہ کیا
کہ ہماری معرفت کی باتوں کو اپنے وطن کے علماء تک پہنچاوے اور ہماری خبریں ان میں پھیلاوے۔
اور منادی بن کر
ہر ایک طرف آوازیں پہنچاوے اور کتابوں کو شائع کرے تا ان لوگوں پر
حقیقت کھل جاوے اور یہ وہی مراد ہے جس کے لئے ہم دن رات دعائیں کرتے تھے
اور میں دیکھتا ہوں کہ یہ شخص اپنے
قول اور وعدہ میں مرد صادق ہے بے ہودہ کلام سے پرہیز کرتا ہے۔