وتفصیل ذلک أن شابًّا صالحا وَسِمًا جاء نی من بلاد الشام، أعنی من طرابلس، وقادہ الحکیم العلیم إلیَّ ولبث عندی إلی سبعۃ أشہر، أعنی إلی ہذا الوقت، فتوسّمتُ فیہ الخیر والرشد، ووجدت فی مِیْسَمہ أنوار الصلاح، ورأیت فیہ سِمۃ الصالحین۔ ثم أمعنتُ فی حالہ وقالہ وتفحصت مِن ظاہرہ وباطن أحوالہ بنور أُعطیَ لی وإلہام قُذف فی قلبی، فآنستُ حسن تقاتہ ورزانۃ حصاتہ، ووجدتُہ رجلًا صالحًا تقیّا راکلا علی جذبات النفس وطاردہا ومن المرتاضین۔ ثم أعطاہ اللّٰہ حظًّا من معرفتی فدخل فی المبایعین۔ وقد انفتح علیہ باب عجیب من معارفنا وألّف کتابا وسمّاہ إیقاظ الناس، وہو دلیل واضح علی سعۃ عملہ، وحجۃ منیرۃ علی إصابۃ رأیہ، ویکفی لکل مُمار فی مضمار۔ ولما أفضی فی تألیف ذلک الکتاب جمع عندہ اور اس مجمل بیان کی تفصیل یہ ہے کہ بلاد شام سے ایک جوان صالح خوش رو میرے پاس آیا یعنی طرابلس سے اور حکیم و علیم اس کو میری طرف کھینچ لایا اور قریب سات مہینے کے یعنی اس وقت تک میرے پاس رہا اور میں نے فراست سے اس کے وجود کو باخیر دیکھا اور اس میں رشد پایا اور اس کے چہرہ میں صلاحیت کے انوار پائے اور صلحاء کے نشان پائے۔ پھر میں نے اس کے حال اور قال میں غور کی اور اس کے ظاہر اور باطن میں تفحص کیا اور اس نور اور الہام کے ساتھ دیکھا جو مجھ کو عطا کیا گیا ہے سو میں نے مشاہدہ کیا کہ وہ حقیقت میں نیک ہے اور متانت عقلی اس کو حاصل ہے اور آدمی نیک بخت ہے جس نے جذبات نفس پر لات ماری اور ان کو الگ کر دیا ہے اور ریاضت کش انسان ہے۔ پھر خدا نے اس کو کچھ حصہ میری شناخت کا عطا کیا سو وہ بیعت کرنے والوں میں داخل ہوگیا اور خدا تعالیٰ نے ہماری معرفت کی باتوں میں سے ایک عجیب دروازہ اس پر کھول دیا اور اس نے ایک کتاب تالیف کی جس کا نام ایقاظ الناس رکھا اور وہ کتاب اس کے وسعت معلومات پر دلیل واضح ہے اور اس کی رائے صائب پر ایک روشن حجت ہے اور وہ کتاب ہر ایک مباحث کے لئے ہر ایک میدان میں کفایت کرتی ہے اور جب اس نے اس کتاب کا تالیف کرنا شروع کیا تو بہت سی