وخانَ، وتَرَک الصدق ومانَ، وعصی اللّٰہ الرحمٰن؛ فیتأذّنُ اللّٰہ لئن استغفَروا لیغفِرَنّ لہم ویُرِی المنَّ والإحسانَ، ولئن أبَوا فإن العذاب قد حان۔ وفیہما إنذار للذین اختصموا من غیر الحق وما اتقوا الرب الدیّان، وتہدیدٌ للذی أبٰی واستکبر وما ترک الحِران، فاتقوا اللّٰہ ولا تعثوا فی الأرض مفسدین۔ وما لکم لا تخافونہ وقد ظہرت آیۃ التخویف من ربّ العالمین۔ وقد ثبت فی الصحیحین عن نبیِّ الثَّقَلینِ وإمامِ الکَونَینِ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم فی الدارینِ، أنہ قال لتفہیم أہل الإیمان ان الشمس والقمر آیتان من آیات اللّٰہ لا ینکسفان لموت أحد ولا لحیاتہ، ولکنہما آیتان من آیاتہ یخوّف اللّٰہ بہما عبادہ، فإذا رأیتموہا فافزعوا إلی الصَّلاۃ، فانظُرْ کیف أوصی سیدُ السادات وخاتم النبیّین۔ وفی الحدیث إشارۃ إلی أنّ تلک الآیتین من الرحمٰن مخصوصتان لتخویف عُصاۃ الزمان، ولا یظہران إلّا عند کا پیرو ہوا اور سچ کو چھوڑا اور جھوٹ بولا اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی کی پس خدا تعالیٰ پکارتا ہے کہ اگر وہ گناہ کی معافی چاہیں تو ان کے گناہ بخشے جائیں گے اور فضل اور احسان کو دیکھیں گے اور اگر نافرمانی کی تو عذاب کا وقت تو آ گیا اور اس میں ان لوگوں کو ڈرانا بھی مقصود ہے جو بغیر حق کے جھگڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے اور ایسے شخص کے لئے تہدید ہے جو نافرمانی اور تکبر اختیار کرتا ہے اور سرکشی کو نہیں چھوڑتا سو خدا سے ڈرو اور زمین پر فساد کرتے مت پھرو۔ اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اس سے ڈرتے نہیں حالانکہ ڈرانے کے نشان ظاہر ہو گئے اور صحیح مسلم اور بخاری سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنوں کے سمجھانے کے لئے فرمایا کہ شمس اور قمر دو نشان خدا تعالیٰ کے نشانوں میں سے ہیں اور کسی کے مرنے یا جینے کے لئے ان کو گرہن نہیں لگتا بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے دو نشان ہیں خدا تعالیٰ ان دونوں کے ساتھ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے پس جب تم ان کو دیکھو تو جلدی سے نماز میں مشغول ہو جاؤ پس دیکھ کہ کیونکر آنحضرت صلعم نے خسوف کسوف سے ڈرایا اور حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ دونوں نشان گنہگاروں کے ڈرانے کے لئے ہیں اور اس وقت ظاہر