أُرسلتُ من ربّ الأنام فجئتُکم
فاسعوا إلٰی بُستانہ الرّیّانِ
مَیں خداتعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا پس تمہاری طرف آیا
پس
خداتعالیٰ کے تر و تازہ باغ کی طرف دوڑو
ہذا مقام الشکر إنّ مُغیثکم
قد خصَّکم بعنایۃٍ وحنانِ
یہ شکر کا مقام ہے جو تمہارے فریاد رس نے
تم کو عنایت اور مہربانی کے ساتھ خاص کر
دیا
یا قوم قُوموا طاعۃً لإمامکم
وتَباعدوا مِن معتدٍ لَعّانِ
اے میری قوم اپنے امام کے لئے فرمانبردار بن کر کھڑے ہو جاؤ
اور اس شخص سے دوررہو جو حد سے تجاوز کرنے والا اور ***
کرنے والا ہے
قد جاء یومُ اللّٰہ فارْنُوا واتقوا
وتَستَّروا بملاحف الإیمانِ
خدا کا دن آیا ہے سو سوچو اور ڈرو
اور ایمان کی چادروں سے اپنی پردہ پوشی کر لو
لا یُلْہِکم غولٌ دنیٌّ مفسدٌ
عن
ربّکم یا معشرَ الحَدَثانِ
تمہیں کوئی مفسد کمینہ اپنے رب سے مت روکے
اے نو عمر لوگو
قد قلتُ مرتَجِلًا فجاء ت ہٰذہ
کالدّرر أو کسبیکۃ العقیانِ
میں نے یہ قصیدہ جلدی سے کہا ہے اور یہ
قصیدہ
موتی کی طرح ہے یا اس سونے کی طرح جو کٹھالی سے نکلتا ہے
ما قلتُہا من قوتی لٰکنّہا
دُرَرٌ من المولٰی ونظمُ بنانی
میں نے اس کو اپنی قوت سے نہیں کہا مگر وہ
موتی خدا تعالیٰ
سے ہیں اور میرے ہاتھوں نے پروئے ہیں
یا ربّ بارکھا بوجہ محمّدٍؐ
ریق الکرام ونخبۃ الاعیانِ
اے خدا محمدصلعم کے منہ کے لئے اس میں برکت ڈال
جو سب کریموں سے افضل اور
برگزیدوں سے برگزیدہ ہے
ثمؔ اعلم أن اللّٰہ نفث فی روعی أن ہذا الخسوف والکسوف فی رمضان آیتان مخوِّفتان، لقوم اتبعوا الشیطان، وآثروا الظلم والطغیان، وہیّجوا الفتن وأحبّوا الافتنان، وما کانوا
منتہین۔ فخوّفہم اللّٰہ بہما وکلَّ مَن تبع ہواہ
پھر جان کہ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں پھونکا کہ یہ خسوف اور کسوف جو رمضان میں ہوا ہے یہ دو خوفناک نشان ہیں جو ان کے ڈرانے کے لئے ظاہر ہوئے
ہیں جو شیطان کی پیروی کرتے ہیں جنہوں نے ظلم اور بے اعتدالی کو اختیار کر لیا۔ سو خدا تعالیٰ ان دونوں نشانوں کے ساتھ ان کو ڈراتا ہے اور ہریک ایسے شخص کو ڈراتا ہے جو حرص و
ہو