یا قوم فی رمضان ظہرتْ آیتی من ربّنا الرّحمٰن والدیّانِ اے میری قوم میرا نشان رمضان میں ظاہر ہوا خدائے رحمان اور جزاء دہندہ سے فاقرأْ إذا ما شئتَ آیۃَ ربّنا خَسَفَ الْقَمَر وتَجافَ عن عدوانِ پس اگر تو چاہے تو ہمارے رب کی آیت کو پڑھ اور وہ آیت یہ ہے خسف القمر اور ظلم سے الگ ہو جا ثم الحدیث حدیث آل محمدٍؐ شرح لما یتلی مِنَ الفُرقانِ پھر حدیث حدیث آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن شریف کی آیات کی شرح میں ہذا کلامُ نبیّنا وحبیبنا فافرَغْ إلیہ وخَلِّ ذِکْرَ أدانی یہ ہمارے نبی اور حبیب کا کلام ہے پس اس کی طرف متوجہ ہو اور ادنیٰ لوگوں کا ذکر چھوڑ دے ہذا أشدُّ علی العدا وجموعہم مِن وقعِ سیفٍ قاطع وسنانِ یہ پیشگوئی دشمنوں پر بہت سخت ہے تلوار اور نیزہ سے بھی زیادہ سخت واؔ لحُرُّ بعد ثبوت أمرٍ قاطعٍ یُہْدیٰ ولا یصغٰی إلی بہتانِ اور ایک آزاد آدمی ثبوت قطعی کے بعد ہدایت دیا جاتا ہے اور بہتان کی طرف کان نہیں دھرتا لا تُعرِضوا عنّی وکیف صدودکم عن مُرسَلٍ یہدی إلی الفرقانِ تم مجھ سے اعراض مت کرو اور کیونکر تم ایسے بھیجے ہوئے سے کنارہ کش ہوتے ہو جو فرقان کی طرف ہدایت دیتا ہے ما جاء نی قومی شقًا وتَباعدوا فترکتُہم مع لوعۃ الہجرانِ میری قوم بوجہ بدبختی کے میرے پاس نہیں آئی اور دور ہوگئی پس میں نے باوجود سوزش جدائی انہیں چھوڑ دیا إنی رأیت بہجرِ قوم فارقوا حالًا کحالۃِ مُرسَلٍ کَنْعانی میں نے اس قوم کی جدائی میں جو جدا ہوگئی وہ حالت دیکھی جو یعقوب علیہ السلام کی حالت سے مشابہ ہے وسألتُ ربّی فاستجاب لِیَ الدُّعا فرجعتُ مَجْلُوًّا من الأحزانِ اور میں نے اپنے رب سے سوال کیا اور اس نے میری دعا قبول کی پس میں غموں سے نجات یافتہ ہو گیا إنّ العدا لا یفہمون معارفی ویکذّبون الحق کالنّشوانِِ دشمن میرے معارف کو نہیں سمجھتے اور مستوں کی طرح حق کی تکذیب کر رہے ہیں