السیفُ أنفاسی ورُمحی کلمتی
ما جئتکم کمحاربٍ بسِنانِ
میرے انفاس میری تلوار ہیں اور میرے کلمات میرے نیزے ہیں
اور میں جنگجو کی طرح نیزہ کے ساتھ نہیں آیا
حقٌّ فلا یسع الوریٰ إنکارُہُ
فاترُکْ مِراءَ الجہل والکفرانِ
یہی سچ ہے پس انکار پیش نہیں جا سکتا
سو جہالت اور ناسپاسی کی لڑائی کو چھوڑ
دے
یا طالبَ الرحمٰن ذی الإحسان
قُمْ وَالِہًا واطلُبْہ کالظمآنِ
اے خدا ذوالاحسان کے طلب کرنے والے
شیفتہ کی طرح اٹھ اور پیاسے کی طرح اس کو ڈھونڈ
بادِرْ إلیّ سأُخبرنّک مشفِقًا
عن
ذٰلک الوجہ الذی أصبانی
میری طرف دوڑ کہ میں تجھے شفقت کی راہ سے خبر دوں گا
اس منہ سے جس نے مجھے اپنی طرف کھینچا
أَحرِؔ ق قراطیس البغاوۃ والإبا
وارکَنْ إلی الإیقان
والإذعانِ
بغاوت اور سرکشی کے کاغذات جلا دے
اور یقین کی طرف جھک جا
أُعطیتُ نورًا مِن ذُکاء مہیمنی
لِاُنیرَ وجہَ البرِّ والعمرانِ
مجھے اپنے خدا کے آفتاب سے ایک نور ملا ہے
تاکہ میں جنگلوں اور آبادیوں کو روشن کروں
بارزتُ لِلّّٰہِ المہیمنِ غیرۃً
أدعو عدوَّ الدّین فی المیدانِ
میں اللہ تعالیٰ کے لئے غیرت کی راہ سے میدان میں نکلا ہوں
اور دشمن دین کو میدان میں
بلاتا ہوں
واللّٰہ إنّی أوّلُ الشجعانِ
وستعرفَنَّ إذا التقَی الجمعانِ
اور بخدا میں سب بہادروں سے پہلے ہوں
اور عنقریب تجھے معلوم ہوگا جب دونوں لشکر ملیں گے
من کان خصمی کانَ ربّی
خَصْمَہُ
قد بارزَ المولٰی لمن بارانی
جو شخص میرا دشمن ہو خدا تعالیٰ اس کا دشمن ہوگا
خدا اس کے مقابلہ پر نکلا جس نے میرا مقابلہ کیا
إنّی رأیتُ ید المہیمن حافِظی
ومؤیِّدی فی سائر
الأحیانِ
میں نے خدا کا ہاتھ اپنا محافظ دیکھا
اور ہر ایک وقت میں اپنا مؤید پایا
مِن فضلہ إنی کتبتُ معارفا
أدخلتُ بحر العلم فی الکیزانِ
یہ اس کے فضل سے ہے جو میں نے معارف
لکھے
اور علم کا دریا کوزہ میں داخل کر دیا