ما کان قطُّ ولا یکون کمثلہِ شہرٌ بہذا الوصف فی الأزمانِ اس مہینے کی طرح نہ ہوا اور نہ کبھی ہوگا اس صفت کا مہینہ کسی زمانہ میں نہیں پایا جاتا شہدتْ ید المولٰی فہل منکم فتًی یُبْدِی المحبّۃ بعد ما عادانی خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے گواہی دے دی پس کیا کوئی مرد ہے جو عداوت کے بعد محبت کو ظاہر کرے وأؔ راد ربّی أن یُرِی آیاتِہِ ویمزّق الدجّال ذا الہذیانِ اور میرے رب نے ارادہ فرمایا ہے جو اپنے نشانوں کو ظاہر کرے اور دجال فضول گو کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے إنی أری کالمیْتِ مَن آذانی لا تسمعَنْ أصواتَہ آذانی جس نے مجھے دکھ دیا میں اس کو مردے کی طرح دیکھ رہا ہوں اور میرے کان اس کی آواز نہیں سنتے ہذا زمان قد سمعتم ذکرہ مِن خیرِ خلقِ اللّٰہ والقرآنِ یہ وہ زمانہ ہے جس کا تم ذکر سن چکے ہو کس سے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور قرآن سے مَن فاتہ ہذا الزمان فقد ہوی واختار جہلا وادِیَ الخذلانِ جس کو یہ زمانہ فوت ہوگیا پس وہ نیچے گرا اور اپنی جہالت سے وادی خذلان کو اس نے پسند کر لیا کم من عدو یشتُمون تعصّبًا ویرون آیاتی ونورَ بیانی بہت ایسے دشمن ہیں کہ محض تعصب سے گالیاں نکالتے ہیں اور میرے نشان اور میرے بیان کا نور دیکھتے ہیں وخیالہم یطفو کحُوتٍ میّتٍ لا ینظرون مواقعَ الإمعانِ اور ان کا خیال مردہ مچھلی کی طرح تیرتا ہے غور کے موقعوں کو وہ نہیں دیکھتے شہدتْ لہم شمس السماء ومثلہا قمرٌ فیرتابون بعد عِیانِ ان کے لئے آسمان کے سورج نے گواہی دی اور ایسا ہی چاند نے پس بعد مشاہدہ کے شک کرتے ہیں خرجوا من التقوی وترکوا طرقہُ بوساوسٍ دخلتْ من الشیطانِ تقویٰ سے خارج ہو گئے اور تقویٰ کی راہ چھوڑ دی بباعث ان وسوسوں کے جو شیطان کی طرف سے اس میں داخل ہوئے یا مُکْفِرِی أہلِ السعادۃ والہدیٰ الیوم أُنزِلتم بدارِ ہوانِ اے وے لوگو جو اہل سعادت کو کافر ٹھہراتے ہو آج تم ذلت کے گھر میں اتارے گئے