فرأیت أن شیوع الکتب فی تلک البلاد فرعٌ لوجود رجل صالح یُشیعہا، وأیقنت أن شہرۃ کتبی وانتشارہا فی صلحاء العرب أمر مستحیل
من غیر أن یجعل اللّٰہ من لدنہ ناصرا منہم ومن إخوانہم۔ فکنت أرفع أکُفَّ الضراعۃ والابتہال لتحصیل ہذہ المُنْیۃ، وتحقیق ہذہ البُغْیۃ، حتی أُجیبتْ دعوتی، وأُعطیتْ لی بُغْیتی، وقاد إلیَّ فضل اللّٰہ رجلًا ذا علم
وفہم ومناسبۃ ومن علماء العرب ومن الصالحین۔ ووجدتہ طیّب الأعراق کریم الأخلاق، مطہّرۃ* الفطرۃ لَوْذَعِیًّا ألْمَعِیًّاؔ
ومن المتقین۔ فابتہجتُ بلقاۂ الذی کان مرادی ومدعائی، وحسبتُہ باکورۃَ
دعائی، وتفاء لت بہ بخیر یأتی وفضل یحمی، وازدہانی الفرح وصرت یومئذ من المستبشرین، فہنّیتُ نفسی ہنالک وشکرتُ اللّٰہ وقلتُ الحمد لک یا رب العالمین۔
پس میں نے دیکھا کہ کتابوں کا ان ملکوں میں
شائع ہونا ایک ایسے نیک انسان کے وجود کی فرع ہے جو شائع کرنے والا ہو
اور میں نے یقین کیا کہ میری کتابوں کا صلحاء عرب میں شائع ہونا ایک امر محال ہے بجز اس صورت کے کہ
خدا تعالیٰ
اپنی طرف سے میرے لئے ان میں سے اور ان کے بھائیوں میں سے کوئی مدد دینے والا مقرر
ؔ کرے سو میں تضرع کے ہاتھ اٹھاتا اور دعائیں عاجزی سے کرتا تھا کہ یہ آرزو اور مراد میرے لئے
حاصل اور
متحقق ہو یہاں تک کہ میری دعا قبول کی گئی اور میری مراد مجھے دی گئی اور میری طرف خدا کا فضل ایک ایسے آدمی
کو کھینچ لایا جو صاحب علم اور فہم اور مناسبت تھا اور نیک
بختوں میں سے تھا۔
اور میں نے اس کو پاک اصل اور پسندیدہ خلق والا اور پاک فطرت والا اور دانا اور پرہیز گار پایا
سو میں اس کی ملاقات سے جو میری عین مراد تھی خوش ہوا اور اپنی دعا کا
پہلا پھل
میں نے اس کو خیال کیا اور آنے والی خیر اور بچانے والے فضل کے لئے میں نے اس کو ایک نیک
فال سمجھا اور کثرت خوشی نے مجھ کو ہلا دیا اور اس دن میں اُن لوگوں میں سے ہوگیا
جو خوش ہوتے ہیں سو میں نے اپنے نفس کو اس وقت
مبارک باد دی اور خدا کا شکر کیا اور کہا کہ اے تمام جہانوں کے خدا تیرا شکر ہے۔