و بشارۃٌ مِن سیّدٍ خیرِ الوریٰ
ظہرتْ مُطہّرۃً من الأدرانِ
اور ایک بشارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی
ایسے پاک طور
پر ظاہر ہو گئی کہ کوئی میل اس کے ساتھ نہیں
ولہا کصاعقۃ السّماء مَہابۃٌ
وتشذُّرٌ کتشذُّر الفرسانِ
اور ان میں صاعقہ کی طرح ایک ہیبت ہے
اور سواروں کی طرح ایک رعب ناک گردن کشی
ہے
الیومَ یومٌ فیہ حصحصَ صدقُنا
قد مات کلُّ مکذِّبٍ فتّانِ
آج وہ دن ہے جس میں ہمارا صدق ظاہر ہوگیا
اور ہر ایک مکذب فتنہ انگیز مر گیا
الیومَ یبکی کلُّ أہل بصیرۃٍ
متذکِّرًا لمراحم
الرحمٰنِ
آج ہریک اہل بصیرت رو رہا ہے
اور رونے کا سبب خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو یاد کرنا ہے
ومصدِّقًا أنوارَ نبأ نبیِّنا
ومعظِّمًا لمواہب المنّانِ
اور دوسرے یہ سبب کہ رونے والے
آنحضرت صلعم کی پیشگوئی کی تصدیق کرتے ہیں
اور بخشائیش محسن حقیقی کی عظمت کا تصور کر رہے ہیں
الیوم کلُّ مبایع ذی فطنۃ
ازداد إیمانا علٰی إیمانِ
آج ہریک دانا بیعت کرنے
والا
اپنے ایمان میں ایسا زیادہ ہو گیا کہ گویا نیا ایمان پایا
الیوم من عادی رأی خُسرانَہ
والتاحَ مقعدُہ من النّیرانِ
آج ہریک دشمن نے اپنا نقصان دیکھ لیا
اور اس کا آگ میں ٹھکانا ہونا ظاہر
ہوگیا
الیوم کلُّ موافق ذی قربۃٍ
قد شدَّ رَبْطَ جنانہ بجنانی
آج ہریک موافق ذی قربت نے
اپنے دل کا ربط میرے دل سے زیادہ کر لیا
ظہرتْ کمثل الشمس حجّۃُ صدقنا
أو کالخیول الصافناتِ
بشانِ
آفتاب کی طرح ہمارے صدق کی حجت ظاہر ہو گئی
یا اپنی شان میں ان گھوڑوں کی طرح جب قدم کے مقابل پر ان کا قدم پڑتا ہے
مات العِدا بتفکُّنٍ وتندُّمٍ
والحق بانَ کصارمٍ عریانِ
دشمن
شرمندگی اور ندامت سے مر گئے
اور حق ایسا کھل گیا جیسا کہ ننگی تلوار
اللّٰہُ أکبر کیف أبدی آیۃً
کشَف الغطا بإنارۃ البرہانِ
کیا ہی بزرگ خدا ہے کیونکر اس نے نشان کو ظاہر کیا
برہان
کو روشن کر کے پردہ کو کھول دیا