تنتظرون من قبل کانتظار الأہِلّۃ، وقد جاء کم فی أیامِ إحاطۃِ الضلالات وتغیُّرِ الحالات، بعدما ترک الناس الحقیقۃ، وفارقوا الطریقۃ؟
ألا تنظرون أو صرتم کالعمین؟ ألا تذکرون ما قال عالم الغیب وہو أصدق القائلین، وبشّرکم بإمامٍ آتٍ فی کتابہ المبین، وقال 33 ۱ ولکلِّ ثلّۃٍ إمامٌ، فانظروا ہل فیہ کلام، فأین تفرّون من إمام الآخرین۔
تم اس
سے پہلے ایسی انتظار کرتے تھے کہ جیسی چاند کی انتظاری کی جاتی تھی اور آنے والا اس وقت تمہارے پاس آیا کہ
جب گمراہئیں محیط ہو چکی تھیں اور حالات بدل چکے تھے اس وقت کے بعد
کہ لوگوں نے حقیقت کو چھوڑ دیا اور طریقت
سے دور جا پڑے کیا تم دیکھتے نہیں یا تم اندھوں کی طرح ہو گئے کیا تم وہ باتیں یاد نہیں کرتے جو عالم الغیب نے کہیں اور اس نے تمہیں ایک آنے
والے امام کی قرآن کریم میں خبر دی ہے۔ اور کہا کہ ایک گروہ
پہلوں میں سے اور ایک گروہ پچھلوں میں سے ہوگا۔ اور ہر ایک گروہ کے لئے ایک امام ہوتا ہے سو سوچو کیا اس میں
کوئی کلام ہے
سو تم امام الآخرین سے کہاں بھاگتے ہو۔
القصیدۃ
بُشریٰ لکم یا معشرَ الإخوانِ
طُوبٰی لکم یا مَجمَعَ الخُلّانِ
تمہیں اے جماعت برادران بشارت ہو
تمہیں اے جماعت دوستان مبارک ہو
ظہرت بُروقُ عنایۃ الحنّانِ
وبدا الصراط لمن لہ العینانِ
خدا تعالیٰ کی عنایت کی چمک ظاہر ہو گئی
اور جو شخص دو آنکھیں رکھتا ہے اس کے لئے راہ کھل گیا
النَّیِّرانِ بہذہ البُلدانِ
خُسِفَا
بإذن اللّٰہ فی رمضانِ
سورج اور چاند کو ان ملکوں میں
باذن اللہ رمضان میں گرہن لگ گیا