اتقوا اللّٰہ ولا تتکبّروا، وفکِّروا وتَدبَّروا، أیجوز عندکم أن یکون المہدی فی بلاد العرب أو الشام، وآیتُہ تظہر فی ہذا المقام؟ وأنتم تعلمون أن الحکمۃ الإلٰہیۃ لا تُبعِدُ الآیۃَ من أہلہا وصاحبہا ومحلّہا، فکیف یمکن أن یکون المہدی فی مغرب الأرض وآیتہ تظہر فی مشرقہا؟ فکفاکم ہذا إن کنتم من الطالبین۔ ثم مع ذلک لا یخفی علیکم أنّ بلاد العرب والشام خالیۃ عن أہل ہذہ الادّعاء ، ولن تسمع أثرًا منہ فی تلک الأرجاء ، ولکنکم تعلمون أنّی أقول مِن بضع سنین بأمر رب العالمین، إنّی أنا المسیح الموعود والمہدی المسعود، وأنتم تکفّروننی وتلعنوننی وتکذّبوننی، وجاء تکم البیّنات وأُزیلت الشبہات، ثم کنتم علی التکفیر مصرّین۔ أعجِبتم أن جاء کم منذر منکم علی رأس الماءۃ فی وقت نزول المصائب علی الملّۃ واشتداد العِلَّۃ، وکنتم فکر کرو اور سوچو کیا تمہارے نزدیک جائز ہے کہ مہدی تو بلاد عرب اور شام میں پیدا ہو اور اس کا نشان ہمارے ملک میں ظاہر ہو اور تم جانتے ہو کہ حکمت الٰہیہ نشان کو اس کے اہل سے جدا نہیں کرتی پس کیونکر ممکن ہے کہ مہدی تو مغرب میں ہو اور اس کا نشان مشرق میں ظاہر ہو اور تمہارے لئے اس قدر کافی ہے اگر تم طالب حق ہو۔ پھر یہ بھی تم پر پوشیدہ نہیں کہ بلاد عرب اور شام ایسے مدعی کے وجود سے خالی ہیں اور ان اطراف میں ایسے مدعی کا نشان نہیں پایا جاتا مگر تم جانتے ہو کہ میں کئی برس سے بامر رب العالمین کہہ رہا ہوں کہ میں مسیح موعود اور مہدی مسعود ہوں ا ور تم مجھے کافر ٹھہراتے اور *** کرتے اور جھٹلاتے ہو اور کھلی کھلی نشانیاں تمہارے پاس پہنچیں اور تمہارے شبہات دور کئے گئے اور پھر تم کافر ٹھہرانے پر اصرار کرتے رہے۔ کیا تم نے تعجب کیا کہ تم میں سے ایک ڈرانے والا صدی کے سر پر آیا اور اس وقت آیا کہ جب دین اسلام پر مصیبتیں اتر رہی تھیں اور بیماری بہت شدت کر گئی تھی اور