عجیبۃ وأوضاعہ غریبۃ، وہو خارق للعادۃ ومخالف للمعمول والسنّۃ، فثبت ما جاء فی القرآن وحدیث خاتم النبیین۔ ولا شک أن اجتماع
الخسوف والکسوف فی شہر رمضان مع ہذہ الغرابۃ أمر خارق للعادۃ۔ وإذا نظرتَ معہ رجلا یقول إنی أنا المسیح الموعود والمہدی المسعود والملہَم المرسَل من الحضرۃ، وکان ظہورہ مقارنًا بہذہ الآیۃ، فلا
شک أنہا أمور ما سُمِع اجتماعہا فی أوّل الزمان، ومن ادّعی فعلیہ أن یثبِت وؔ قوعَہ فی حین من الأحیان۔ ثم لما ظہرت ہذہ الآیۃ فی ہذہ الدیار وہذا المقام، ولم یظہر أثرٌ منہا فی بلاد العرب والشام، فہذہ شہادۃ
من اللّٰہ العلّام لصدق دعوانا یا أہل الإسلام، فقُوموا فُرادیٰ، فُرادیٰ، واتر!کوا مَن بخِل وعادَی، ثم تَفکّروا ودَعُوا عِنادا، ولا تلُقوا بأیدیکم إلی التہلکۃ ولا تُفسدوا إفسادا، ولا تُعرضوا مستعجلین۔ یا عباد اللّٰہ
رحمکم اللّٰہ
عجیب ہیں اور اس کی وضعیں غریب ہیں اور وہ خارق عادت اور مخالف معمول اور سنت ہے۔
پس اس سے وہ غیر معمولی ہونا ثابت ہوا جس کا بیان قرآن کریم اور حدیث خاتم الانبیاء
میں موجود ہے اور کچھ شک نہیں کہ کسوف خسوف اس مہینہ رمضان میں اس غیر معمولی حالت کے ساتھ جمع ہونا ایک امر خارق عادت ہے
اور جب کہ اس کے ساتھ تو نے ایک آدمی کو دیکھا جو
کہتا ہے کہ میں مسیح موعود اور مہدی ہوں اور خسوف
کسوف کے ساتھ اس کا ظہور مقارن ہے پس کچھ شک نہیں کہ یہ تمام امور ایسے
ہیں جو پہلے کسی زمانہ میں جمع نہیں ہوئے جو انکار
کرے اور ثابت کر کے دکھلاوے کہ کسی
وقت پہلے اس سے یہ کسوف خسوف معہ مدعی مہدویت کے وقوع میں آ چکا ہے۔ پھر جبکہ یہ نشان اسی ملک
اور اسی مقام میں ظاہر ہوا اور بلاد عرب
اور شام میں کچھ اس کا نشان
نہ پایا گیا سو یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے صدق دعویٰ پر ایک نشان ہے پس تم ایک ایک ہوکر کھڑے ہو جاؤ اور جو
شخص بخیل اور دشمن ہو اس کو چھوڑ دو
پھر فکر کرو اور عناد کو چھوڑ دو اور اپنے ہاتھوں سے اپنے تئیں ہلاک مت کرو
اور جلدی سے کنارہ کش مت ہو جاؤ۔ اے بندگان خدا