غیر الأیام المعتادۃ بالتقلیل أو الزیادۃ، لما سمّاہ القرآن خسوفا ولا کسوفا، بل ذکرہ بلفظ آخر وبیّنہ ببیان أظہر، ولکن القرآن ما فعل
کذا کما أنت تریٰ، بل سمّی الخسوؔ ف خسوفا لیُفہِّم الناسَ أمرًا معروفًا۔ نعم، ما ذکَر الکسوف باسم الکسوف، لیشیر إلی أمر زائدٍ علی المعتاد المعروف، فإن ہذا الکسوف الذی ظہر بعد خسوف القمر کان غریبًا
ونادرۃ الصور، وإن کنتَ تطلب علی ہٰذا شاہدًا أو تبغی مُشاہدًا فقد شاہدتَ صُورَہ الغریبۃ وأشکالہ العجیبۃ إن کنتَ من ذوی العینین۔ ثم کفاک فی شہادتہ ما طُبع فی الجریدتین المشہورتین المقبولتین۔ أعنی
الجریدۃ الإنکلیزیۃ بانیر ، وسِوِل مِلِتری کَزِت ، المشاعتین فی مارج سنۃ۱۸۹۴ء والمشتہرتین۔ وأمّا تفصیل الشہادتین فہو أن ہذا الکسوف الواقع فی ۶؍ إبریل سنۃ۱۸۹۴ء متفرّد بطرائفہ، ولم یُرَ مثلہ من قبل
فی کوائفہ، وأشکالہ
کے لئے سنت قدیمہ میں نہیں ہے تو قرآن اس کا نام خسوف کسوف
نہ رکھتا بلکہ دوسرے لفظ سے بیان کرتا لیکن قرآن نے ایسا نہیں کیا
جیسا کہ تو دیکھتا ہے بلکہ اس کا نام
خسوف ہی رکھا تاکہ لوگوں کو سمجھاوے کہ یہ خسوف معروف ہے
کوئی اور چیز نہیں ہاں قرآن نے کسوف کو کسوف کے لفظ سے بیان نہیں کیا تا ایک امر زائد کی طرف اشارہ
کرے کیونکہ یہ
سورج گرہن جو بعد چاند گرہن کے ہوا یہ ایک غیر معمولی
اور نادرۃ الصور تھا اور اگر تو اس پر کوئی گواہ طلب کرتا ہے یا مشاہدہ کرنے والوں کو چاہتا ہے
پس اس سورج گرہن کی صور غریبہ
اور اشکال عجیبہ مشاہدہ کر چکا ہے پھر تجھے اس بارہ میں وہ خبر
کفایت کرتی ہے جو دو مشہور اور مقبول اخبار
یعنی پانیر اور سول ملٹری گزٹ میں لکھی گئی ہے اور وہ دونوں پرچے مارچ
۱۸۹۴ء
کے مہینہ میں شائع ہوئے ہیں۔ اور ان کی گواہیوں کی تفصیل یہ ہے کہ ان دونوں پرچوں میں لکھا ہے کہ یہ کسوف اپنے
عجائبات میں متفرد اور غیر معمولی ہے یعنی وہ ایک ایسا کسوف
ہے جو اس کی نظیر پہلے نہیں دیکھی گئی اور اس کی شکلیں