ولا تَشْظَیَنْ مِثل الشَّذَی أو ضالِعٍ وکُنْ فی شوارعِہ ضَلِیعًا نَاضِیا اور چلنے سے مت عاری ہو جیسے کتے کی مکھی اور وہ گھوڑا جو پیر میں لنگ رکھتا ہے اور خدا تعالٰے کی راہوں میں ایک مضبوط گھوڑا اور سب سے آگے نکلنے وال بن جا وؔ إنْ لَعَنَک السفہاءُ مِن طلبِ الہُدیٰ اور اگر سفیہ لوگ بوجہ طلب ہدایت تیرے پر *** کریں فَکُنْ فی مَراضی اللّٰہ باللَّعْنِ راضیا سو خدا تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے *** پر راضی ہو جا ثم إذا کانت حقیقۃ الکسوف بالتعریف المعروف أنہ ہیءۃٌ حاصلۃ مِن حول القمر بین الشمس والأرض فی أواخر أیام الشہر، فکیف یمکن أن یتکلم أفصحُ العجم والعرب بلفظٍ یخالف محاوراتِ القوم واللّغۃَ والأدب؟ وکیف یجوز أن یتلّفظ بلفظٍ وُضع لمعنی عند أہل اللسان، ثم یصرفہ عن ذٰلک المعنی من غیر إقامۃ القرینۃ وتفصیل البیان؟ فإن صرف اللفظ عن المحاورۃ ومعانیہ المرادۃ عند أہل الفن وأہل اللغۃ لا یجوز لأحد إلا بإقامۃ قرینۃ موصلۃ إلی الجزم والیقین۔ وقد ذکرنا أن القرآن یصدّق ہذا البیان، ولو کان الخسوف والکسوف فی أیامٍ پھر جب کہ سورج گرہن کی حقیقت مشہور تعریف کی رو سے یہ ہوئی کہ وہ اس ہیئت حاصلہ کا نام ہے کہ جب سورج اور زمین میں چاند حائل ہو جائے اور یہ حائل ہو جانا مہینہ کے آخر ایام میں ہو پس کیونکر ممکن ہے کہ وہ جو عجم اور عرب کے تمام لوگوں سے زیادہ تر فصیح ہے اور وہ ایسا لفظ بولے جو محاورات قوم اور لغت اور ادب سے بالکل مخالف ہو اور جائز ہے کہ ایسا لفط بولا جائے جو اہل زبان کے نزدیک ایک خاص معنوں کے لئے موضوع ہے پھر اس کو بغیر اقامت کسی قرینہ کے اس معنے سے پھیرا جائے کیونکہ کسی لفظ کا محاورہ اور معنی مراد مستعملہ سے پھیرنا اہل فن اور اہل لغت کے نزدیک جائز نہیں مگر اس حالت میں کہ کوئی قرینہ یقینی قائم کیا جاوے اور ہم ذکر کر چکے ہیں کہ قرآن اس بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ اور اگر کسوف خسوف ایسے ایام میں ہوتا جو اس