المستعجلین؟ ألا تخافون أنکم کذّبتم حدیث المصطفٰی وقد ظہر صدقُہ کشمس الضحی؟ أتستطیعون أن تُخرِجوا لنا مثلہ فی قرون أولٰی؟ أتقرأون فی کتابٍ اسمَ رجل اِدّعٰی وقال إنّی من اللّٰہ الأعلٰی، وانخسف فی عصرہ القمرُ والشمس فی رمضان کما رأیتم الآن؟ فإن کنتم تعرفونہ فبیِّنوا یا معشر المنکرین، ولکم ألف روبیۃ من الورق المروّج إنعامًا منی، فخُذوا إن تُثبتوا، وأُشہِدُ اللّٰہ علی عہدی ہذا، واشہَدوا وہو خیر الشاہدین۔ وإن لم تُثبتوا، ولن تثبتوا، فاتّقوا النار التی أُعدّت للمفسدین قریب تربا امن کونسا گروہ ہے۔ کیا تم ڈرتے نہیں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو جھٹلایا حالانکہ اس کا صدق چاشت گاہ کے آفتاب کی طرح ظاہر ہو گیا۔ کیا تم اس کی نظیر پہلے زمانوں میں سے کسی زمانہ میں پیش کر سکتے ہو کیا تم کسی کتاب میں پڑھتے ہو کہ کسی شخص نے دعویٰ کیا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور پھر اس کے زمانہ میں رمضان میں چاند اور سورج کا گرہن ہوا جیسا کہ اب تم نے دیکھا۔ پس اگر پہچانتے ہو تو بیان کرو اور تمہیں ہزار روپیہ انعام ملے گا اگر ایسا کر دکھاؤ۔ پس ثابت کرو اور یہ انعام لے لو اور میں خدا تعالیٰ کو اپنے اس عہد پر گواہ ٹھہراتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو اور خدا سب گواہوں سے بہتر ہے۔ اور اگر تم ثابت نہ کر سکو اور ہرگز ثابت نہ کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جو مفسدوں کے لئے طیار کی گئی ہے۔ قضَی بیننا المولٰی فلا تَعْصِ قاضیا وأَطْفِءْ لَظَی الطَّغْوی وفارِقْ حاضیا خدا تعالیٰ نے ہم میں فیصلہ کر دیا پس فیصلہ کرنے والے کی نافرمانی مت کر اور زیادتی کے شعلہ کو بجھا اور جو لڑائی کی آگ بھڑکانے والا ہو اس سے جدا ہو جا ووَدِّعْ وُجودَ الظالمین وَجُودَہم ولا تذکُرَنْ یُسرًا وعُسْرًا ماضیا اور ظالموں کے وجود اور ان کی بخشش کو رخصت کر دے یعنی چھوڑ دے اور گزشتہ تنگی فراخی کو یاد مت کر وغادِرْ ذَرَی أہلِ الہوی ورِضاءَ ہُمْ وبادِرْ إلی الرحمن واطلُبْ تَراضیا اور اہل ہوا کی پناہ اور رضا مندی کو چھوڑ دے اور رحمان کی طرف جلد قدم اٹھا اور کوشش کر کہ وہ تجھ سے راضی ہو اور تو اس سے راضی