فکما أن لفظ الأوّل یدلّ علی أوّل وقت اللیلۃ بالمعنی المعروف، ومع ذٰلک علی لیلۃ أولٰی من أیام الخسوف، فَکَذٰلِکَ لفظ النصف یدل علی نصف ثان من نصفَیِ الشہر الموصوف، ومع ذٰلک علی وقتٍ منصِّفٍ لأیام الکسوف، وہو أوّلُ نصفَی النہار فی الثامن والعشرین۔ وأمّا أیام الکسوف مِن مولی علّام فاؔ علم أنہا عند أہل النجوم ثلا!ثۃ أیام، وہی من السّابع والعشرین من الشہر القمری إلی التاسع والعشرین، وتنکسف الشمس فی أحد منہا عند اقتران القمر علی شکل خاص بعد تحقُّقِ اختصاص، کما شہدتْ علیہ تجارب المنجّمین۔ فأخبر رسول اللّٰہ صلّی اللّہ علیہ وسلم خیرُ الأنام أن الشمس تنکسف عند ظہور المہدی فی النّصف من ہذہ الأیام، یعنی الثامن والعشرین قبل نصف النہار، وکذٰلک ظہر کما لا یخفٰی علی أولی الأَبْصارِ۔ فانظر کیف تمّتْ کلمۃُ نبیّنا صدقًا وعدلا، فاتّق اللّٰہ ولا تکن من الممترین پس جیسا کہ لفظ اول جو حدیث میں ہے معنے معروف کے لحاظ سے اول وقت رات پر دلالت کرتا ہے اور ساتھ اس کے خسوف کی پہلی رات پر بھی دلالت کرتا ہے۔ سو اسی طرح حدیث میں نصف کا لفظ ہے جو دوسرے نصف پر مہینہ کے دو نصفوں میں سے دلالت کرتا ہے اور ساتھ اس کے سورج گرہن کے اس وقت منصف پر دلالت کرتا ہے جس نے کسوف کے دنوں کو اپنے وقوع سے نصفا نصف کر دیا اور وہ رمضان کی اٹھائیسویں تاریخ دوپہر تک تھی اور کسوف کے دنوں کی بابت اگر سوال ہو تو جاننا چاہیئے کہ اہل نجوم کے نزدیک تین ہیں یعنی ستائیس سے انتیس تاریخ تک اور کسوف یعنی سورج گرہن کسی تاریخ میں ان تاریخوں میں سے اس وقت ہوتا ہے کہ جب شکل خاص پر اقتران قمر ہو جیسا کہ نجومیوں کے تجارب اس پر گواہی دیتے ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ سورج گرہن مہدی کے ظہور کے وقت ایام کسوف کے نصف میں ہوگا یعنی اٹھائیسویں تاریخ میں دوپہر سے پہلے اور اسی طرح پر ظاہر ہوا جیسا کہ آنکھوں والوں پر پوشیدہ نہیں۔ پس دیکھ کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کیسی ٹھیک ٹھیک پوری ہو گئی پس خدا سے ڈر اور شک کرنے والوں