ومن ہٰہنا بانَ أن الذی خالف ہذا البیان، وزعم أن الشمس تنکسف فی السابع والعشرین أو فی نصف رمضان فقد مان، وما فہِم قول رسول اللّٰہ صلعم وما مسّ العرفان، بل أخطأ فیہ من قلّۃ البضاعۃ والعیلۃ، کما أخطأ فی الخسوف فی أوّل اللیلۃ، وما کان من المصیبین۔ وما قلتُ من نفسی بل ہذا إلہام من ربّ العالمین۔ وذلک عصرٌ مجموعٌ فیہ الناسُ کما جُمع القمر والشمس وقرُب البأس، فقوموا متنبّہین أیہا الأناس۔ ما لکم لا یتر!ککم النعاس؟ ومن کان من عند اللّٰہ فما لہ الزوال، فامکروا کل المکر ولن تزول منکم الجبال، ولن تُعجزوا اللّٰہ یا أبناء الضلال۔ إنہ عزیز ذو الجلال، جعل علی قلوبکم أکنّۃً فلاؔ تفقہون أسرارہ، وکنتم قومًا محجوبین۔ إنّما استزلّکم الشیطان ببعض ما کسبتم، فما فہمتم الحق وارتبتم وطفقتم تتبعون بئس القرین۔ وإن کنتم لا تقبلون ما ظہر کمُنکِرٍ وقیحٍ، وتظنون أنہ حدیث غیر صحیح میں سے مت ہو اور اس جگہ سے یہ بات کھل گئی کہ جس شخص نے اس کے مخالف بیان کیا ہے اور ایسا سمجھا کہ حدیث کا یہ مطلب ہے کہ سورج گرہن ستائیسویں تاریخ میں ہو یا پندرھویں رمضان میں ہو اس نے بڑی غلطی کھائی ہے اور جھوٹ بولا ہے اور آنحضرت صلعم کی حدیث کا مطلب نہیں سمجھا بلکہ اپنی کم بضاعتی کے سبب سے غلطی کی ہے جیسا کہ خسوف قمر کو چاند کی اول رات قرار دینے میں غلطی کی اور صواب پر قائم نہ رہا اور یہ میں نے اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ خدا تعالیٰ کے الہام سے کہا ہے۔ اور یہ وہ زمانہ ہے جس میں سب آدمی جمع کئے جائیں گے جیسا کہ سورج اور چاند جمع کئے گئے اور سختی کا وقت نزدیک کیا گیا۔ پس اے لوگو خبر دار ہوکر اٹھو کیا سبب کہ تمہیں نیند نہیں چھوڑتی اور جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو تو اس کے لئے زوال نہیں ہے۔ پس تم ہریک مکر کر لو اور تمہارے مکروں سے پہاڑ دور نہیں ہو سکتے اور تم اے گمراہی کے بیٹو خداتعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے وہ غالب اور صاحب بزرگی ہے تمہارے دلوں پر اس نے پردے ڈال دیئے اس لئے تم اس کے بھیدوں کو سمجھ نہیں سکتے اور تم ایک ایسی قوم ہو گئے جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں شیطان نے تم کو تمہارے بعض گناہوں کی وجہ سے گرا دیا سو تم نے حق کو نہ سمجھا اور شک میں پڑ گئے اور شیطان کی پیروی کرنے لگے۔ اور جو امر ثابت اور ظاہر ہو گیا تم اس کو ایک بے حیا کی طرح قبول نہیں کرتے اور خیال کرتے ہو کہ وہ حدیث صحیح نہیں ہے