أفأنت تشکّ فی حدیث حصحصت صحّتہ وتبیّنت طہاؔ رتہ أنہ ضعیف فی أعین القوم، أو ہو مورد اللؤم، أو فی رُوا!تہ أحد من المطعونین؟ أفذلک مقام الشکّ أو کنت من المجنونین؟ وقد صدّقہ اللّٰہ وأنار الدلیل، وبرّأ الرُواۃَ مما قیل، وأرَی نور صدقہ أجلٰی وأصفٰی، فہل بقی شک بعد إمارات عظمٰی؟ أتشکّون فی شمس الضحی؟ أتجعلون النُّورَ کالدّجٰی ؟ أتَعامیتم أو کنتم من العمین؟ أتقبلون شہادۃ الإنسان ولا تقبلون شہادۃ الرحمٰن وتسعون معتدین؟ أأنت تعتقد أن اللّٰہ یُظہر علی غیبہ الکذّابین المفترین المزوِّرین؟ أ تشکّ فی الأخبار بعد ظہور صدقہا؟ وإذا حصحصَ الصدق فلا یشک إلّا من کان من قوم عادین۔ وہذا أمر لا یحتاج إلی التوضیح والتعریف، ولا یخفی علی الزکیّ الحنیف، وعلی کل من أمعن کالمتدبرین۔ ثم اعلمْ یا ذا العینین أن لفظ النصف لفظ ذو معنیین کیا تو اس حدیث میں شک کرتا ہے جس کا صحیح ہونا کھل گیا اور جس کی پاکیزگی ظاہر ہو گئی ہے کہ وہ قوم کی نظر میں ضعیف ہے یا وہ ملامت کی جگہ ہے اور یا اس کے راویوں میں سے کون مطعون ہے۔ کیا یہ مقام شک کا ہے یا تو دیوانوں میں سے ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے اس حدیث کی تصدیق کی ہے اور راویوں کو الزامات سے بری کیا ہے اور اس حدیث کی سچائی کے نور کمال صفائی اور روشنی سے دکھائے ہیں۔ پس کیا ایسے بڑے نشانوں کے بعد شک باقی رہ گیا کیا تم چاشت کے سورج میں شک کرتے ہو کیا تم نور کو اندھیرے کی طرح ٹھہراتے ہو کیا تم بتکلف نابینا بنتے ہو یا حقیقت میں اندھے ہو کیا تم انسان کی گواہی قبول کرتے ہو اور رحمان کی قبول نہیں کرتے اور حد سے بڑھ کر دوڑتے ہو کیا تو اعتقاد رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے غیب پر ایسے لوگوں کو اطلاع دیتا ہے جو کذاب اور مفتری اور مزور ہیں کیا تو ان خبروں میں شک کرتا ہے جس کا صدق ظاہر ہوگیا اور جب صدق ظاہر ہو گیا تو صرف وہی لوگ شک کریں گے جو حد سے بڑھتے ہیں۔ اور یہ وہ امر ہے جو توضیح اور تعریف کا محتاج نہیں اور زیرک مسلمان پر پوشیدہ نہیں رہ سکتا اور نہ اس شخص پر جو امعان نظر اور تدبر سے دیکھے۔ پھر اے دو آنکھوں والے جان کہ نصف کا لفظ حدیث میں ذومعنین ہے