لہم أن یکتبوا حدیثا فی صحاحہم وہم یعلمون أنہ لا أصلَ لہ، بل فی رُوا!تہ رجل من الکذّابین الدجّالین۔ أخَلَطوا الخبیث بالطیّب بعد
ما کانوا علی خُبثہ مستیقنین؟ وإن کان ہذا ہو الحق فما بال الذین خلطوا قذرًا بالماء المَعین متعمّدین وہم کانوا أوّل عالمٍ بأحوال الرُواۃ المفترین۔ أہُمْ صلحاء عندکم؟ کلا بل ہم أوّل الفاسقین۔ 3 ۱ أو کان مُعینَ
روایات الکاذبین؟ أفأنت تشہد أن الدارقطنی وجمیع روایات ہذا الحدیث وناقِلوہ فی کتبہم وخالِطوہ فی الأحادیث من أوّل الزمان إلی ہذا الأوان کانوا من المفسدین الفاسقین وما کانوا من الصالحین؟ وأنت تجد
کُتب القوم مملوّۃً من الحدیث الذی سمّیتَہ موضوعًا فی مقالک مع زیادۃ علمہم منک ومن أمثالک، ومع زیادۃ اطّلاعہم علی حقیقۃ اشتبہتْ علی خیالک، فلا تتّبِعْ جذباتِ نفسک وفکِّرْ کالمتّقین
بعید تھا کہ وہ ایک
حدیث کو اپنے صحاح میں داخل کرتے باوجود اس بات کے کہ وہ جانتے تھے کہ وہ حدیث بے اصل ہے اور اس کے بعض راوی کذاب اور دجال ہیں کیا انہوں نے خبیث کو طیب سے ملا دیا بعد اس بات
کے کہ وہ خبیث کے
خبث پر یقین رکھتے تھے اور اگر یہی سچ ہے تو ان لوگوں کا کیا حال ہے جنہوں نے پلیدی کو آب صاف کے ساتھ
ملا دیا اور وہ مفتریوں کے حالات سے خوب واقف تھے
کیا وہ تیرے نزدیک صالح ہیں
نہیں بلکہ اول درجہ کے فاسق ہیں اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا
جھوٹوں کی روایتوں کا مددگار ہے کیا تو گواہی دیتا ہے کہ دار
قطنی اور تمام راوی اس حدیث کے
اور تمام وہ لوگ جنہوں نے اپنی کتابوں میں اس حدیث کو نقل کیا اور حدیثوں میں ملایا اول زمانہ
سے اس زمانہ تک مفسد اور فاسق ہی گذرے ہیں اور صالح آدمی
نہیں تھے اور
تو قوم کی کتابوں کو اس حدیث سے پُر پائے گا جس کا نام تو موضوع رکھتا ہے
باوجود اس کے جو ان کا علم تجھ سے اور تیرے ہم مثل لوگوں سے زیادہ ہے اور پھر وہ تجھ سے
زیادہ تر
اصلی حقیقت پر اطلاع رکھتے ہیں پس تو اپنے نفس کے جذبات کا طالب نہ ہو اور نیک بخت بن جا۔