وقال المعاندون والعلماء المتعصّبون إن ہذا الحدیث لیس بصحیح، بل ہو قولُ کذّاب وقیح وما لہم بذلک من علم، کبُرتْ کلمۃً تخرج من أفواہہم، إن یقولون إلا کذبا، وکذّبوا ما أظہر اللّٰہ صِدقہ وجلّی، ما کان حدیثًا یُفتریٰ، ولکن عُمِّیتْ علیہم وطُبِعَ علی قلوبہم طبعًا۔ یا حسرۃً علیہم لِم ینکرون الحق معاندین؟ ما لہم لا یتّقون یوم الدّین؟ ما لہم لا یفکّرون فی أنفسہم أنہ حدیث قد أنار صدقہ، ولا یصدّق اللّٰہُ قولَ الکذّابین؟ وما کان اللّٰہ لیُطلِع علی غیبہ کاذبًا دجّالا عدوَّ الصادقین، وقد علمتَ ما جاء فی کتاب مبین وکیف یکذّبونہ وإنّ ظہور صدقہ یشہد بشہادۃ واضحۃ أنہ کلامُ رسولٍ صدوقٍ أمین۔ وکان الإمام محمد نالباقر من أئمۃ المہتدین وؔ فلذۃَ الإمام الکامل زین العابدین۔ وفی سلسلۃ الحدیث رجال من الصادقین الذین کانوا یعرفون الکاذبین وکذبہم وما کانوا مستعجلین۔ وما کان کوئی مکذب نہ ہوگا اور متعصب معاندوں اور متعصب مولویوں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے بلکہ وہ کسی جھوٹے بے شرم کا قول ہے اور ان مولویوں کے پاس اس تکذیب پر کوئی دلیل نہیں بہت بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے سراسر جھوٹ کہتے ہیں اور انہوں نے اس حدیث کی تکذیب کی جس کی خدا تعالیٰ نے سچائی ظاہر کر دی یہ حدیث ایسی نہیں جو انسان کا افترا ہو سکے لیکن ان کی بینائی جاتی رہی اور ان کے دلوں پر مہر لگ گئی ان پر حسرت ہے کیوں وہ معاند بن کر حق سے انکار کرتے ہیں کیوں جزا سزا کے دن سے نہیں ڈرتے کیوں نہیں سوچتے کہ یہ ایک حدیث ہے جس کی سچائی ظاہر ہو گئی اور خدا تعالیٰ جھوٹوں کے قول کو کبھی سچا نہیں کرتا اور خدا ایسا نہیں کہ جھوٹے دجال کو جو سچوں کا دشمن ہے اپنے غیب پر مطلع فرماوے اور اس بارے میں جو کچھ قرآن میں ہے تجھے معلوم ہے اور کیونکر انکار کرتے ہیں حالانکہ پیش گوئی کا سچا ہو جانا صاف گواہی دے رہا ہے کیونکہ حدیث رسول صادق امین کی ہے۔ اور امام محمد باقر ہدایت یافتہ اماموں میں سے اور امام زین العابدین کا گوشہ جگر تھا اور نیز حدیث کے سلسلہ میں سچے آدمی موجود ہیں ایسے آدمی جو جھوٹوں اور ان کے جھوٹ کو شناخت کرتے تھے اور جلد باز نہیں تھے اور یہ ان سے