فإنہ ہو حدّ الإنصاف فکماؔ قدّر اللّٰہ انخساف القمر فی أوّل لیلۃ من أیام الخسوف، کذلک قدّر انکسافَ الشمس فی نصف من أیام
الکسوف، ووقع کما قدّر کما أخبر خیر المخبرین۔
3۔۱ وہذا نبأ عظیم من أنباء الغیب وأرفعُ من مبلغ العقول، فلا شک أنہ حدیث من خیر المرسلین، ولہ طرق أخریٰ تشہد علی صحتہ* وصدَّقہ القرآن، فلا
یُنکرہ إلا الملحد الفتّان، ولا یکذّبہ إلّا من کان من الظالمین۔
تجاوز نہیں کرے گا کیونکہ وہی نصف کی حد ہے پس جیسا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقدر کیا کہ گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات
میں چاند
گرہن ہو ایسا ہی یہ بھی مقدر کیا کہ سورج گرہن کے دنوں میں سے جو وقت نصف میں واقع ہے اس میں
گرہن ہو سو مطابق خبر واقع ہوا اور خدا تعالیٰ بجز ایسے پسندیدہ لوگوں کے جن کو وہ اصلاح
خلق کے لئے
بھیجتا ہے کسی کو اپنے غیب پر اطلاع نہیں دیتا۔ پس شک نہیں کہ یہ حدیث پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جو خیر المرسلین ہے اور اس حدیث کے لئے اور بھی طریق ہیں جو
اس کی صحت پر دلالت کرتے ہیں اور قرآن نے اس کی تصدیق کی ہے پس بجز ملحد فتنہ انگیز کے اور کوئی انکار نہیں کرے گا اور بجز ظالم کے
الحاشیۃ: قد عرفت ان خبر اجتماع الخسوف
والکسوف موجود فی القراٰن الکریم
تجھے معلوم ہے کہ اجتماع خسوف و کسوف کی خبر قرآن میں موجود ہے
وجعلہ اللّٰہ من امارات النبأ العظیم ویوجد ھذا الحدیث فی کتب اھل التشیع کما یوجد
اور خداتعالیٰ نے قیامت کی نشانیوں میں سے اس کو ٹھہرایا ہے اور شیعہ کی کتابوں میں خبر ایسی ہی
فی کتب اھل السنۃ ووجدنا کل حزب علیہ متفقین وکذٰلک جاء فی صحف اشعیا النبی فی
الاصحاح
پائی جاتی ہے۔ جیسا کہ سنت وجماعت کی کتابوں میں اور ہم نے ہر ایک گروہ کو اس پر متفق پایا اور اشعیا نبی کی کتاب
الثالث عشر و فی کتاب یوئیل النبی فی الاصحاح الثانی وفی انجیل
متی فی الاصحاح الرابع
۱۳ باب اور یوئیل نبی کی کتاب کے دوسرے باب اور انجیل متی کے ۲۴ باب میں یہ خبر موجود ہے
والعشرین ولا حاجۃ الی التفصیل فان الکتب موجودۃ فاقرء ھا
کالمتدبرین۔ منہ
تفصیل کی حاجت نہیں کتابیں موجود ہیں سو تدبر سے دیکھو۔ منہ